خیبرپختونخوا: دہشتگردوں کے بنوں میں کوآڈ کاپٹر سے حملہ، خاتون جاں بحق، 3 بچے زخمی، عوام خوفزدہ
بنوں میں کواڈ کاپٹر حملے
بنوں (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شدت پسندوں نے 2 کواڈ کاپٹر حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور 3 بچے زخمی ہوگئے۔ ان واقعات کے بعد متعلقہ علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں واٹر ٹینکر نے ایک اور بچے کی جان لے لی، شہریوں نے ڈرائیور کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ جانیے
حملوں کی تفصیلات
ڈان نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب گزشتہ ایک سال کے دوران کے پی اور بلوچستان میں متعدد کواڈ کاپٹر اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مارچ میں، مردان میں ایک مبینہ ڈرون حملے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بارے میں مقامی افراد کا اصرار ہے کہ یہ ڈرون حملہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے ابتک بھارت کے 77 ڈرونز گرا دیئے، سکیورٹی ذرائع
ماضی کے واقعات
مئی میں شمالی وزیرستان کے میرعلی تحصیل میں ایک مشتبہ کواڈ کاپٹر حملے میں 4 بچے جاں بحق اور 5 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ فوج نے وضاحت کی تھی کہ اس واقعے میں سیکیورٹی فورسز کو غلط طور پر ملوث کیا گیا اور یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: میرا گاؤں سیلاب میں ڈوب گیا، سات سال سے چیخ رہا ہوں کہ میرا گاؤں کٹاؤ کی زد میں ہے، میری کسی نے بات نہیں سنی، پیپلزپارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ گفتگو کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے۔
پولیس کی ردعمل
بنوں کے ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) سلیم عباس کلچی نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ آج ضلع میں 2 کواڈ کاپٹر حملوں کے واقعات پیش آئے، جس میں ایک خاتون جاں بحق ہوئی جب کہ 3 بچے زخمی ہوئے، جن میں دو بچے خاتون کے اپنے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاتون کی لاش اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں زلزلے کے جھٹکے
دوسرا حملہ
ڈی پی او سلیم عباس کلچی کے مطابق دوسرا کواڈ کاپٹر حملہ مریان پولیس سٹیشن پر ہوا، جس میں پولیس سٹیشن کی چھت پر لگے سولر پینلز کو نقصان پہنچا، اس حملے میں پولیس اہلکار محفوظ رہے، یہ اس تھانے پر تیسرا شدت پسند حملہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے لیڈر کے لیے غصہ کر رہا ہوں، برداشت کرنا چاہیے، پریشر بڑھانا ہوگا جو باتوں سے نہیں بڑھتا،: علی امین گنڈا پور پھر برس پڑے
سرچ آپریشن
انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ پاکستان میں حالیہ دنوں میں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب کالعدم ٹی ٹی پی نے نومبر 2022 میں حکومت کے ساتھ سیز فائر ختم کر دیا تھا۔
ماضی کے حملے
بنوں میں گزشتہ کئی مہینوں کے دوران متعدد شدت پسند حملے ہو چکے ہیں۔ ہفتے کے روز بھی ضلع میں ایک جرگے پر مسلح افراد کے حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے تھے۔ مارچ میں، بنوں کینٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے جواب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 16 دہشت گرد ہلاک جبکہ 5 فوجی شہید ہوئے تھے۔ اس واقعے میں 13 شہری جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے تھے، جب کہ خودکش دھماکوں سے مسجد اور رہائشی عمارت کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں بیرونی دیوار کا ایک حصہ گر گیا تھا۔








