الیکشن کمیشن نے عمر ایوب نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا
الیکشن کمیشن کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی بحریہ کے افسران کو رشوت دینے والے ملزم کو 15 سال قید کی سزا
کیس کی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں قائدحزب اختلاف عمر ایوب نااہلی کیس کی سماعت ہوئی،ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس (ر) اکرام اللہ نے کہا سپیکرریفرنس کیس کا کیا بنا؟ پشاور ہائیکورٹ کس طرح حکم امتناع دےسکتی ہے؟ کیا آئین میں کوئی ترمیم ہوگئی ہے؟ کیس کے فیصلے میں سب کچھ لکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں ڈرونز اور کواڈ کاپٹر اڑانے پر پابندی، دفعہ 144 نافذ
وکیل کا موقف
وکیل عمر ایوب نےکہا کیس میں پشاور ہائیکورٹ نےحکم امتناع دے رکھا ہے، الیکشن ٹریبونل موجود ہے، درخواست گزار کو وہاں جانا چاہیے تھا۔ کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن صرف 60 دن میں ہی چیلنج ہوسکتا ہے۔ 9 فروری کو درخواست دی کہ جعلی بیلٹ پیپرز چھاپے جا رہے ہیں، جعلی ووٹ ڈلوانے کے حوالے سے کسی ایجنسی کی رپورٹ نہیں، دوبارہ گنتی کی درخواست مجھ سے کسی نے نہیں لی۔
یہ بھی پڑھیں: ایسا بجٹ لا رہے ہیں جو ترقی کا روڈ میپ ہو گا: وزیر اعلیٰ بلوچستان کا بڑا دعویٰ
سماعت کے دوران اہم نکات
جسٹس(ر) اکرام اللہ نے کہا ایکٹ میں جو لکھا ہو، الیکشن میں گڑبڑ کا کسی بھی وقت ایکشن لے سکتے ہیں۔ یہ دلائل تو ریٹرننگ افسر کے سامنے بنتے تھے، وہاں آپ نہیں گئے۔ جس پروکیل نے کہا ہمیں رزلٹ کنسالیڈیشن کے حوالے سے کوئی نوٹس نہیں ملا۔
کمیشن کے ارکان کے سوالات
عمر ایوب کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کرنے پر ارکان الیکشن کمیشن کے سوالات تھے کہ ہائیکورٹ اسپیکر کے ریفرنس پر حکم امتناع کیسے دے سکتی ہے؟ فیصلے میں سب کچھ لکھیں۔








