الیکشن کمیشن نے عمر ایوب نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا
الیکشن کمیشن کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایچ ایف کے ایڈہاک صدر محی الدین وانی نے چارج سنبھال لیا
کیس کی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں قائدحزب اختلاف عمر ایوب نااہلی کیس کی سماعت ہوئی،ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس (ر) اکرام اللہ نے کہا سپیکرریفرنس کیس کا کیا بنا؟ پشاور ہائیکورٹ کس طرح حکم امتناع دےسکتی ہے؟ کیا آئین میں کوئی ترمیم ہوگئی ہے؟ کیس کے فیصلے میں سب کچھ لکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کے دراصل کتنے رافیل طیارے گرائے ہیں؟ نئے اعداد و شمار سامنے آ گئے
وکیل کا موقف
وکیل عمر ایوب نےکہا کیس میں پشاور ہائیکورٹ نےحکم امتناع دے رکھا ہے، الیکشن ٹریبونل موجود ہے، درخواست گزار کو وہاں جانا چاہیے تھا۔ کامیاب امیدوار کا نوٹیفکیشن صرف 60 دن میں ہی چیلنج ہوسکتا ہے۔ 9 فروری کو درخواست دی کہ جعلی بیلٹ پیپرز چھاپے جا رہے ہیں، جعلی ووٹ ڈلوانے کے حوالے سے کسی ایجنسی کی رپورٹ نہیں، دوبارہ گنتی کی درخواست مجھ سے کسی نے نہیں لی۔
یہ بھی پڑھیں: خالد مقبول صدیقی ناراض، حکومت چھوڑنے کا اشارہ دیدیا
سماعت کے دوران اہم نکات
جسٹس(ر) اکرام اللہ نے کہا ایکٹ میں جو لکھا ہو، الیکشن میں گڑبڑ کا کسی بھی وقت ایکشن لے سکتے ہیں۔ یہ دلائل تو ریٹرننگ افسر کے سامنے بنتے تھے، وہاں آپ نہیں گئے۔ جس پروکیل نے کہا ہمیں رزلٹ کنسالیڈیشن کے حوالے سے کوئی نوٹس نہیں ملا۔
کمیشن کے ارکان کے سوالات
عمر ایوب کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کرنے پر ارکان الیکشن کمیشن کے سوالات تھے کہ ہائیکورٹ اسپیکر کے ریفرنس پر حکم امتناع کیسے دے سکتی ہے؟ فیصلے میں سب کچھ لکھیں۔








