فیملی کیسز میں معاوضوں کی ادائیگی کی اپیلیں سپریم کورٹ نہیں آنی چاہئیں: چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے فیملی معاملات سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران واضح ریمارکس دیئے ہیں کہ فیملی کیسز میں معاوضوں کی ادائیگی کی اپیلیں سپریم کورٹ میں نہیں آنی چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: گرمیوں میں ہیٹ ریشز میں اضافہ کیوں ہوتا ہے اور اسے کیسے روکا جائے؟
فیملی کیسز کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مختلف فیملی کیسز کی سماعت کی جس میں بچوں کے ماہانہ خرچے، جہیز کی واپسی اور دیگر معاملات زیر غور آئے۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ اسٹالینز نے آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز اسٹیو اسمتھ کو ڈائریکٹ سائن کر لیا
بچوں کے ماہانہ خرچے کا فیصلہ
ایک مقدمے میں درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ایک چھوٹے بچے کیلئے 25 ہزار روپے ماہانہ خرچہ بہت زیادہ ہے، اس پر جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیئے کہ ’اپنا بچہ ہے تو پچیس ہزار کچھ زیادہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کشتی حادثہ، ملزم کی 2مقدمات میں درخواست ضمانت خارج
نچلی عدالت کے فیصلے کی توثیق
عدالت نے نچلی عدالت کی جانب سے مقرر کردہ 25 ہزار روپے ماہانہ خرچے کے فیصلے کیخلاف اپیل کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: شکارپور: پولیس آپریشن روکنے کیلئے ڈاکوؤں نے 7 افراد کو اغوا کر لیا
سپرئم کورٹ کی حدود
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فیملی کیسز میں معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق اپیلیں سپریم کورٹ میں نہیں آنی چاہئیں، نچلی عدالتیں جو فیصلہ کرتی ہیں، وہیں معاملہ ختم ہو جانا چاہیے، سپریم کورٹ ان معمولی مالیاتی تنازعات میں مداخلت نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور اسد قیصر کے بھائی کی ایک روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری
جہیز برآمدگی کیس کی سماعت
دوسری جانب عدالت نے 7 سال پرانے جہیز برآمدگی کیس میں شہری شاہ رخ لودھی کی اپیل بھی مسترد کر دی۔
عدالت کی برہمی کا اظہار
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کا فیصلہ ہو چکا ہے، لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ عدالت نے رجسٹرار آفس کو ہدایت دی کہ ٹرائل کورٹ کی عملدرآمد رپورٹ فوری طور پر سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے اور متعلقہ عدالت کو بھی حکم دیا کہ وہ فیصلے پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنائے۔








