پٹواریوں کی آسامیوں پر غیر متعلقہ افراد کے کام کرنے کے خلاف کیس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت داخلہ کو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے ملاقات کی ہدایت
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلام آباد میں پٹواریوں کی آسامیوں پر غیرمتعلقہ افراد کے کام کرنے کے خلاف ایک اہم کیس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت داخلہ کو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے میٹنگ کی ہدایت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی اسلحہ برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، ایک سال میں کتنے ہتھیار بیچے، خریدار کون؟ جان کر یقین نہ آئے
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کی زیر نگرانی ہوئی۔ ڈپٹی سیکرٹری وزارت داخلہ نے عدالت میں بیان دیا کہ کیس کے حوالے سے ایک میٹنگ کی گئی ہے اور متعلقہ رولز اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو فراہم کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: New Petition Filed Against Proposed Constitutional Amendments in Supreme Court
وزارت داخلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جواب
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزارت داخلہ کے رولز ڈرافٹ پر اعتراضات کے ساتھ جواب ارسال کیا، جس پر وزارت داخلہ نے تمام اعتراضات کا تسلی بخش جواب فراہم کرتے ہوئے کیس واپس بھیجا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ کام نہ ہونے کی صورت میں پٹواریوں سے پوچھا جائے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ پالیسی موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھر سے چیز لینے کے لیے نکلا تھا اور اس کے بعد واپس نہیں آیا، کراچی میں والدین کا اکلوتا بیٹا زیادتی کے بعد قتل
قانون کی وضاحت کی تلاش
عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مینڈیٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں استفسار کیا۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن یا وزارت داخلہ کے کسی بیان پر تبصرہ نہیں کریں گے اور ایک ہفتے کا وقت چاہتے ہیں تاکہ میٹنگز کر کے عدالت کو آگاہ کر سکیں۔
اگلی سماعت کی تاریخ
عدالت نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت داخلہ کو اسسٹنٹ اٹارنی جنرل سے میٹنگ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت کو 28 جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔








