ریاست مزید نوکریاں نہیں دے سکتی، حکومت کا سرکاری اداروں کی نجکاری کا عندیہ
حکومت کی سرکاری ملازمتوں کی فراہمی میں کمی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ ریاست اب مزید سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف بھارتی صنعتکار رتن ٹاٹا کی موت کے بعد انکا جانشین کون ہو گا ؟ جانیے
نجی شعبے پر توجہ
ڈان نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ریاست اب مزید سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اور سرکاری ادارے براہِ راست چلانے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام پر بھارتی اداکارہ کی بولڈ تصاویر لائیک کرنے پر کوہلی کو وضاحت دینا پڑ گئی
اجلاس کی تفصیلات
ابرار احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے ’رائٹ سائزنگ‘ پالیسی کے تحت بیوروکریسی کے اختیارات محدود کرنے کی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ کئی حکومتی کمپنیاں منافع بخش ثابت نہیں ہو رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات
حکومتی اقدامات
سیکرٹری کے مطابق ان کمپنیوں کو یا تو بند کیا جائے گا یا نجکاری کے ذریعے چلایا جائے گا۔ اس دوران غیر ضروری سرکاری ملازمین کو سرپلس پول میں رکھا جائے گا اور مختلف وزارتوں میں ان کا انضمام کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آرٹیکل 191 اے ون کو 191 اے تھری کے ساتھ ملا کر پڑھیں، آئینی بنچ کے لیے ججز جوڈیشل کمیشن نامزد کرے گا، جسٹس عائشہ ملک
نئی قانون سازی
اجلاس میں پیش کیے گئے سول سرونٹس ترمیمی بل 2024 پر بھی غور کیا گیا، جس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو چین سے ریل کے رابطے کیلیے 3 ممکنہ راستے ہیں کراچی سے خنجراب براستہ لاہور، راولپنڈی، ٹیکسلا اور حویلیاں، یا گوادر سے خنجراب براستہ سندھ۔
صوبائی سطح پر منتقلی
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کئی کام صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور وفاقی حکومت بعض اداروں کو ختم یا ضم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب سمجھ آیا کہ پیار ایک ہی دفعہ ہوتا ہے: عاصم اظہر
قانون سازی میں احتجاج
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے بل کی منظوری پر احتجاج کیا اور کہا کہ قانون سازی میں جلد بازی مناسب نہیں، تاہم کمیٹی نے بل کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا
نئی ترامیم کی منظوری
نیشنل سکول آف پبلک پالیسی ترمیمی بل 2025 بھی اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کے تحت بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کا اختیار اب وزیراعظم کو حاصل ہوگا۔ مزید برآں، آسان کاروبار بل 2025 بھی اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔
کاروباری ماحول کی بہتری
بورڈ آف انویسٹمنٹ حکام نے اطلاع دی کہ اس بل کے تحت ایک پاکستان بزنس پورٹل اور ای-رجسٹری قائم کی جائے گی، تاکہ کاروبار کی این او سی اور رجسٹریشن کا سارا عمل ایک چھت تلے مکمل ہو۔ سیدھے الفاظ میں، بل کی منظوری کے بعد کاروباری ماحول میں بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔








