ریاست مزید نوکریاں نہیں دے سکتی، حکومت کا سرکاری اداروں کی نجکاری کا عندیہ
حکومت کی سرکاری ملازمتوں کی فراہمی میں کمی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ ریاست اب مزید سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا امکان
نجی شعبے پر توجہ
ڈان نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ ریاست اب مزید سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اور سرکاری ادارے براہِ راست چلانے کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف یہ آپریشن اب اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک۔۔‘‘ پاکستان نے واضح اعلان کر دیا
اجلاس کی تفصیلات
ابرار احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے ’رائٹ سائزنگ‘ پالیسی کے تحت بیوروکریسی کے اختیارات محدود کرنے کی تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ کئی حکومتی کمپنیاں منافع بخش ثابت نہیں ہو رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگلا پڑاؤ اسوان ڈیم تھا جس پر مصری بہت فخر کرتے ہیں اور ہر ایک کے سامنے اس کا تذکرہ کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں، یہ ڈیم جون 1970ء میں مکمل ہوا
حکومتی اقدامات
سیکرٹری کے مطابق ان کمپنیوں کو یا تو بند کیا جائے گا یا نجکاری کے ذریعے چلایا جائے گا۔ اس دوران غیر ضروری سرکاری ملازمین کو سرپلس پول میں رکھا جائے گا اور مختلف وزارتوں میں ان کا انضمام کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سوریا کماری یادو کے سیاسی جملوں کا معاملہ، پاکستان کی درخواست منظور، بھارتی کپتان کے خلاف کارروائی کا امکان، بھارتی میڈیا کا دعویٰ
نئی قانون سازی
اجلاس میں پیش کیے گئے سول سرونٹس ترمیمی بل 2024 پر بھی غور کیا گیا، جس کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: قاضی فائز عیسیٰ پر لندن میں حملے کا معاملہ ،پاکستانی وزارت خارجہ نے کارروائی کے سخت احکامات جاری کردیئے
صوبائی سطح پر منتقلی
سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کئی کام صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں اور وفاقی حکومت بعض اداروں کو ختم یا ضم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اعظم سواتی کے خلاف اسلام آباد میں 15 مقدمات درج، درخواست نمٹا دی گئی
قانون سازی میں احتجاج
اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رکن آغا رفیع اللہ نے بل کی منظوری پر احتجاج کیا اور کہا کہ قانون سازی میں جلد بازی مناسب نہیں، تاہم کمیٹی نے بل کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور چیئرمین پی سی بی کی پاکستانی جیولین ٹیم کو تمغے جیتنے پر مبارکباد
نئی ترامیم کی منظوری
نیشنل سکول آف پبلک پالیسی ترمیمی بل 2025 بھی اجلاس میں منظور کیا گیا، جس کے تحت بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی کا اختیار اب وزیراعظم کو حاصل ہوگا۔ مزید برآں، آسان کاروبار بل 2025 بھی اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔
کاروباری ماحول کی بہتری
بورڈ آف انویسٹمنٹ حکام نے اطلاع دی کہ اس بل کے تحت ایک پاکستان بزنس پورٹل اور ای-رجسٹری قائم کی جائے گی، تاکہ کاروبار کی این او سی اور رجسٹریشن کا سارا عمل ایک چھت تلے مکمل ہو۔ سیدھے الفاظ میں، بل کی منظوری کے بعد کاروباری ماحول میں بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔








