حسن علی نے ’’کنگ کرلے گا‘‘ جملہ کیوں کہا تھا؟ وضاحت سامنے آگئی
حسن علی کا بابر اعظم کے بارے میں بیان
کراچی: پاکستان ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے کہا کہ بابر اعظم نے اپنی کارکردگی اور رویے سے ثابت کیا کہ وہ اس دور کے سب سے بہترین بیٹر ہیں، ہم سب نے ہی انھیں ’’کنگ‘‘ کا لقب دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے پاکستان میں غیررجسٹرڈ وی پی این بلاک کرنا شروع کردیئے
بابر اعظم کی قیادت کی تعریف
پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ ’’کرکٹ پاکستان‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں حسن علی نے کہا کہ اگرچہ وہ بدقسمتی سے ٹرافی نہیں جیت سکے لیکن پاکستان کے بہترین کپتانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے نام پر کسی صورت حرف آنے کی اجازت نہیں دے سکتے، محسن نقوی
کنگ کرلے گا: ایک وضاحت
انہوں نے ایک بار پھر اپنے مشہور جملے ’’کنگ کرلے گا‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جملہ صرف زبان نہیں بلکہ دل سے نکلا تھا۔ ویرات کوہلی، کین ولیمسن، سٹیو سمتھ اور جو روٹ جیسے بڑے کھلاڑی ان کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہیں، اگر آپ کسی سے پوچھیں کہ بابر کا کور ڈرائیو بہتر ہے یا کوہلی کا تو اکثر لوگ بابر کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے دوران مکانات کی چھتیں گرنے سے 4 افراد جاں بحق، 4 شدید زخمی
بابر کے ساتھ اپنے سفر کا ذکر
حسن علی نے کہا کہ میرا اور بابر کا ڈیبیو ایک ہی وقت ہوا، میں نے انھیں کرکٹ میں اْبھرتے، رنز بناتے اور محنت کرتے دیکھا، وہ پاکستان کرکٹ کے بادشاہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ایران پر حملے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بیان جاری کر دیا
مستقبل کے بارے میں حکمت عملی
ایک سوال کے جواب میں فاسٹ بولر نے کہا کہ مستقبل میں ٹی ٹوئنٹی یا ون ڈے کو چھوڑ سکتا ہوں لیکن جب تک فٹنس ہے ٹیسٹ کرکٹ نہیں چھوڑوں گا۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سےتجاوز کر گئے، وفاقی وزیر خزانہ
مشقت کے نتائج
حسن علی نے کہا کہ جو مشکل وقت میں نے دیکھا اور محنت کی اب اس کا صلہ مل رہا ہے، انگلینڈ میں ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کے دوران بولنگ ردھم اچھا اور فٹنس بھی زبردست ہے، سب کچھ درست سمت میں جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پہلی بار تیتر کے شکار کے لیے 80 شکار گاہیں مختص
ٹیم کی ذمہ داریاں
انہوں نے کہا کہ میری ذمہ داری پرفارم کرنا ہے جبکہ ٹیم میں شمولیت پی سی بی، کپتان اور مینجمنٹ کی صوابدید ہے، میری کوچ اور کپتان سے بات چیت ہوئی، انہوں نے واضح پلان دیا جس پر عمل کر رہا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: کئی راتیں رویا، تنہائی کاٹی، دل پر بوجھ رہا، اتنے دکھ سہے کہ بحرالکاہل بھی داد دیتا رہا کہ تیرے دکھ مجھ میں اترتے تو شاید ماؤنٹ ایورسٹ کو بھی ڈبو دیتا
اعتماد اور دباؤ
فاسٹ بولر نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے مجھے مستقبل کے لیے مثبت اور واضح ہدایات دی ہیں، جب کھلاڑی کو مینجمنٹ کی طرف سے واضح پیغام ملے تو اس میں اعتماد آتا ہے، اگرچہ دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے لیکن میرے لیے معاملات واضح ہونا خوشی کی بات ہے۔
آنے والی چیلنجز
ایک سوال پر حسن علی نے کہا کہ میں تینوں فارمیٹس کھیلنا چاہتا ہوں، ٹی ٹوئنٹی میں پیسہ اور گلیمر کے ساتھ دباؤ بھی کم ہوتا ہے، دنیا بھر میں بہت زیادہ لیگز ہیں، اگر آپ سال میں 3 یا 4 بھی کھیل لیں تو کافی رقم کما لیتے ہیں۔ البتہ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو ریڈ بال کرکٹ میری محبت ہے، میں چاہے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سے ریٹائر ہو جاؤں لیکن جب تک فٹنس ہے میں ٹیسٹ چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، ٹیسٹ میں پرفارم کرنا ہی اصل امتحان ہوتا ہے۔








