اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے پاکستان آنا چاہتے ہیں تو حکومت کو ان کا خیرمقدم کرنا چاہیے: علی محمد خان
علی محمد خان کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹے پاکستان آنا چاہتے ہیں تو حکومت کو ان کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: میری قومی ٹیم میں سلیکشن ہونی ہوگی تو ہوجائے گی، نہیں ہونی ہوگی تو نہیں ہوگی، سرفراز احمد
سیاسی جدوجہد پر بات چیت
علی محمد خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے رشتے دار بالکل سیاسی جدوجہد کر سکتے ہیں، لیکن اگر کسی کو صرف رشتے دار ہونے کی بنیاد پر پارٹی کی اہم پوزیشن پر لایا جائے تو یہ پارٹی میں آوازیں اٹھانے کا باعث بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، یونیورسٹی طالبہ کو شادی کا جھانسہ دیکر کلاس فیلو کی جنسی زیادتی
عمران خان کے بیٹوں کی ممکنہ آمد
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں تصدیق نہیں کر سکتا کہ قاسم اور سلیمان پاکستان آ رہے ہیں یا نہیں، لیکن کچھ دنوں سے ان کی پاکستان آمد سے متعلق خبریں چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ وہ سیاسی کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری و تعلیمی اداروں کے احاطے و اطراف میں سیاسی جلسوں اور اجتماعات پر پابندی
حکومت کا کردار
علی محمد خان نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو بانی کے بیٹوں کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری پارٹی کے ورکر کا ڈی این اے ایسا ہے کہ وہ موروثی سیاست پسند نہیں کرتے، لیکن اس وقت کی صورت حال مختلف ہے۔ جو بھی بانی کی رہائی کے لیے کردار ادا کرنا چاہے، وہ ضرور کرے۔
یہ بھی پڑھیں: میں اپنی بچہ دانی نکلوانے کی خواہش رکھتی ہوں، مگر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میں ابھی بہت چھوٹی ہوں۔
مذاکرات کی ضرورت
انہوں نے مزید کہا کہ دو دفعہ مذاکرات کا سلسلہ چل چکا ہے، اور ہم ٹکراؤ کی سیاست نہیں چاہتے۔ مذاکرات کی میز پر ہی مسئلے کا حل نکلے گا، لیکن یہ مذاکرات معنی خیز ہونے چاہئیں۔
ملک کی بہتری کے لیے کردار
علی محمد خان نے کہا کہ مذاکرات سے بانی سمیت اسیران بھی باہر آئیں گے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ اس ملک کو کیسے آگے لے کر جانا ہے، اور سب کو ملک کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔








