لورالائی میں شہید کیے گئے مسافروں میں 2 سگے بھائی بھی شامل، لاشیں ڈیرہ غازی خان منتقل
لورالائی میں افسوسناک واقعہ
لورالائی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان کے ضلع لورالائی کے علاقے سرڈھاکہ میں بسوں سے اتار کر شہید کیے گئے مسافروں میں 2 سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ شہدا کی میتیں ڈیرہ غازی خان منتقل کردی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ڈاکٹر کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کا معاملہ، آئی جی اسلام آباد نے پولیس افسر کو معطل کردیا
انتظامیہ کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام مسافروں کی لاشیں ڈیرہ غازی خان بارڈر ملٹری پولیس کے حوالے کی گئیں۔ قتل کیے جانے والے مسافروں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں درجہ حرارت میں اضافے اور ہیٹ ویو کا الرٹ جاری
لاشوں کی ترسیل
انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان بارڈر ملٹری پولیس لاشوں کو آبائی علاقے تک پہنچائے گی۔ مقتولین کوئٹہ سے پنجاب جا رہے تھے، بسوں سے اتار کر مارا گیا، فائرنگ سے جان بحق افراد میں دو بھائی بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
دہشت گردوں کا حملہ
واضح رہے کہ جمعرات کی رات بلوچستان ضلع کے ژوب اور لورالائی کی سرحد پر واقع سورڈکئی کے علاقے میں فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی 2 کوچز میں سوار کم از کم 9 مسافروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔
ذمہ داری کا اعلان
اس حملے کی ذمہ داری فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے موسیٰ خیل-مکھتر اور خجوری کے درمیان شاہراہ کو بند کرنے کے بعد ان 9 مسافروں کو قتل کیا۔








