لورالائی میں شہید کیے گئے مسافروں میں 2 سگے بھائی بھی شامل، لاشیں ڈیرہ غازی خان منتقل
لورالائی میں افسوسناک واقعہ
لورالائی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان کے ضلع لورالائی کے علاقے سرڈھاکہ میں بسوں سے اتار کر شہید کیے گئے مسافروں میں 2 سگے بھائی بھی شامل ہیں۔ شہدا کی میتیں ڈیرہ غازی خان منتقل کردی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے لیے ریلیف کی رقم دینے کا آغاز کر دیا : وزیر اعظم شہباز شریف
انتظامیہ کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام مسافروں کی لاشیں ڈیرہ غازی خان بارڈر ملٹری پولیس کے حوالے کی گئیں۔ قتل کیے جانے والے مسافروں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک 10 اپریل 1986ء میں آئی تھی جب دخترِ مشرق کے استقبال کیلئے عوام آئے، ایک 10 اپریل 2022ء میں آئی جب عوام ازخود سڑکوں پر نکلے۔
لاشوں کی ترسیل
انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ڈیرہ غازی خان بارڈر ملٹری پولیس لاشوں کو آبائی علاقے تک پہنچائے گی۔ مقتولین کوئٹہ سے پنجاب جا رہے تھے، بسوں سے اتار کر مارا گیا، فائرنگ سے جان بحق افراد میں دو بھائی بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جڑانوالہ میں 2026 کا پہلا مقدمہ تھانہ سٹی میں درج کرلیا گیا
دہشت گردوں کا حملہ
واضح رہے کہ جمعرات کی رات بلوچستان ضلع کے ژوب اور لورالائی کی سرحد پر واقع سورڈکئی کے علاقے میں فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی 2 کوچز میں سوار کم از کم 9 مسافروں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا تھا۔
ذمہ داری کا اعلان
اس حملے کی ذمہ داری فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے موسیٰ خیل-مکھتر اور خجوری کے درمیان شاہراہ کو بند کرنے کے بعد ان 9 مسافروں کو قتل کیا۔








