ایریزونا میں 20 کروڑ سال پرانے اڑنے والے دیو ہیکل جانور کی باقیات دریافت
ایریزونا میں تاریخی دریافت
ایریزونا (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی ریاست ایریزونا میں ماہرینِ حیاتیات نے تقریباً 200 ملین سال پرانے ایک اڑنے والے دیو ہیکل جانور کی باقیات دریافت کی ہیں، جو سائنسی لحاظ سے ایک نادر اور انقلابی دریافت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر تعلیم پنجاب کا لاہور کے مختلف سکولوں اور کالجوں کا سرپرائز دورہ، طلباء سے گفتگو ، ریکارڈ بھی چیک کیا
فوسلز کی نوعیت
روزنامہ جنگ کے مطابق یہ فوسلز پٹیروسار (Pterosaur) نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جو ٹرائیسک عہد (Triassic Period) کے جاندار تھے یعنی وہ زمانہ جب زمین پر ڈائنوسارز نے قدم رکھنا شروع کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنا ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے، شاہد خان آفریدی
دریافت کا مقام
یہ اہم دریافت ایریزونا کے علاقے چِنل فارمیشن (Chinle Formation) سے ہوئی، جو زمین کی ارضیاتی ساخت کے حوالے سے امریکہ کا ایک نہایت اہم خطہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 مارچ سے 20 مارچ تک پاک بھارت جنگ کا خدشہ، اگست میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، معروف آسٹرولجر قلب اعظم کا دعویٰ
پٹیروسارز کی خصوصیات
پٹیروسارز وہ ابتدائی رینگنے والے جاندار تھے جو سب سے پہلے فضا میں پرواز کے قابل ہوئے، ان کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً 1.5 میٹر یا اس سے زیادہ ہوتا تھا، جبکہ ان کا جسم ہلکا پھلکا اور لمبی کھوپڑی دانتوں سمیت شکار کے لیے موزوں تھی۔
نئی جغرافیائی معلومات
یہ باقیات ثبوت فراہم کرتی ہیں کہ پٹیروسارز امریکہ کے جنوب مغربی علاقوں میں بھی موجود تھے، اس سے قبل ان کی موجودگی کے شواہد صرف یورپ اور جنوبی امریکہ تک محدود تھے، اس دریافت نے ان کے جغرافیائی پھیلاؤ کو نئی وسعت دی ہے۔








