سپریم جوڈیشل کونسل؛ ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر اُن کے نام پبلک نہ کرنے کا فیصلہ
سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ جن ججز کے خلاف شکایات نمٹائی جاتی ہیں، ان کے نام پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی سالمیت، سکیورٹی اور شہریوں کے تحفظ میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: فیلڈ مارشل
اہم اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہوا، جس میں ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کونسل ممبر کی حیثیت سے جبکہ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم اور سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جنید غفار بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت میں بادل پھٹنے سے تباہی، کئی گھر اور فصلیں تباہ
شکایات کا جائزہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں ججز کے خلاف شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شکایات کا سامنا کرنے والے ججز کے خلاف شکایات نمٹانے پر ان کے نام پبلک کرنے پر غور ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی بھی دفاعی منصوبہ وقت پر مکمل نہیں ہوتا: بھارتی ایئر چیف مارشل پھٹ پڑے
تجویز مسترد
سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف شکایات نمٹانے پر ان کے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ ذرائع کے مطابق کونسل نے فیصلہ کیا کہ جن ججز کے خلاف شکایات نمٹائی جاتی ہیں ان کے نام پبلک نہیں کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا کی اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن کیخلاف بڑی کارروائی، متعدد خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیدیا
اجلاس کا اعلامیہ
بعد ازاں سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں جسٹس منیب اختر بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی یہ جیت کشمیر کے نوجوانوں کی جدوجہد کا جواب ہے: خالد مقبول صدیقی
دیگر اہم شرکاء
علاوہ ازیں اجلاس میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جنید غفار نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ایجنڈے کے تمام نکات کو ایک ایک کرکے زیر غور لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: صحافی واجد علی نے برٹش ہائی کمیشن کے کلائمٹ چینج جرنلزم مقابلے میں میدان مار لیا
سروس رولز کی منظوری
اعلامیے میں بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سیکریٹریٹ سروس رولز 2025 کے مجوزہ مسودے کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں انکوائری کے طریقہ کار اور ضابطہ اخلاق میں ترامیم کو قانونی اور مسودہ نویسی کے پہلو سے مزید غور و فکر کا متقاضی قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
جو شکایات داخل دفتر کی گئیں
سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت مختلف افراد کی جانب سے دائر کی گئی 24 شکایات کا بھی جائزہ لیاا ور کونسل نے متفقہ طور پر ججز کے خلاف 19 شکایات کو داخل دفتر کرنے کا فیصلہ کیا۔
مؤخر کی گئی شکایات
سپریم جوڈیشل کونسل نے دیگر 5 شکایات کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔








