کالج طالبہ نے ڈیپارٹمنٹ ہیڈ کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر خود کو آگ لگا لی
بھارتی کالج میں خودکشی کا واقعہ
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی کالج میں طالبہ نے شعبے کے سربراہ کی جانب سے جنسی ہراساں کیے جانے پر پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی۔
یہ بھی پڑھیں: باب وولمر سے کئی کھلاڑیوں کی لڑائیاں ہوئیں لیکن ان کرکٹرز کو کبھی ٹیم سے نہیں نکالا: کامران اکمل
واقعے کی تفصیلات
بھارتی ریاست اوڈیشہ کے فقیر موہان کالج میں بی ایڈ کی طالبہ نے مبینہ طور پر ڈپارٹمنٹ ہیڈ کی جانب سے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور دھمکیاں دینے پر خود کو آگ لگا لی۔ طالبہ 95 فیصد جھلس گئی ہے، جبکہ اسے بچانے کی کوشش کرنے والا ایک اور طالب علم 70 فیصد جھلس گیا ہے۔ دونوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی 4 نئی کتب کی تقریب رونمائی، تحقیق کے دروازے بند کرنے والی قومیں زوال کا شکار ہو جاتی ہیں: مقررین کا تقریب سے خطاب
پولیس کارروائی
’’جنگ‘‘ کے مطابق، پولیس کی جانب سے کالج کے شعبہ تعلیم کے ڈپارٹمنٹ ہیڈ کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کالج کے پرنسپل کو معطل کردیا گیا ہے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بی ایڈ کی طالبہ نے یکم جولائی کو کالج انتظامیہ کو ڈپارٹمنٹ ہیڈ سمیر کمار کے خلاف ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کی شکایت درج کروائی تھی۔
طالبہ کی مخالفت اور احتجاج
شکایت کے بعد طالبہ سے کہا گیا تھا کہ 7 دن میں کارروائی ہوگی، مگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ اس کے بعد متاثرہ طالبہ دیگر طلباء کے ساتھ کالج کے باہر احتجاج کر رہی تھی کہ اچانک وہ پرنسپل آفس کے قریب پہنچی اور خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی۔








