ایمرجنسی ویکسینز اموات میں 60 فیصد کمی کا سبب بنیں، تحقیق
ہنگامی ویکسینیشن کے اثرات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران ہیضہ، ایبولا اور خسرہ جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ کے دوران ہنگامی ویکسینیشن نے ان امراض سے اموات میں لگ بھگ 60 فیصد کمی آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان کے بیٹے پر حملہ کرنے والے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم
تحقیقی نتائج
ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتنی ہی تعداد میں ممکنہ انفیکشنز کو بھی روکا گیا، جب کہ اس اقدام کے باعث عالمی معیشت کو اربوں یورو کا فائدہ پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: اکانومسٹ نے وہی لکھا جو ہم بتاتے رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے اقتدار پر قابض رہنے کے لیے سازشیں کیں، حنیف عباسی
تحقیق کا پس منظر
یہ تحقیق گیوی ویکسین الائنس کے تعاون سے کی گئی، جس نے آسٹریلیا کے برنیٹ انسٹیٹیوٹ کے محققین کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہنگامی ویکسینیشن نے عالمی صحت اور تحفظِ عامہ پر کیا اثر ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگی کتابیں اور یونیفارم فروخت کرنے پر 17 بڑے نجی سکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری
گیوی کی سربراہ کا بیان
گیوی کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک بیان میں کہا کہ ’پہلی بار ہم انسانی اور اقتصادی دونوں لحاظ سے یہ مکمل اندازہ لگا سکے ہیں کہ مہلک متعدی امراض کے پھیلاؤ کے دوران ویکسین کس قدر مؤثر ثابت ہوتی ہے، یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ ویکسین کس طرح کم لاگت میں بڑی وباؤں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کا مؤثر ذریعہ ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی چوروں کے خلاف بڑی کارروائی، جلدو میں لیسکو ٹیم پر حملہ، غنڈہ عناصر کے حملے ناقابل قبول ہیں: سی ای او لیسکو
تحقیق کی تفصیلات
یہ تحقیق برطانوی طبی جریدے ’بی ایم جے گلوبل ہیلتھ‘ میں شائع ہوئی، جس میں سال 2000 سے 2023 کے دوران 49 کم آمدنی والے ممالک میں پیش آنے والے 5 متعدی امراض ہیضہ، ایبولا، خسرہ، میننجائٹس اور یلو فیور کی 210 وباؤں کا جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مچھلی چُرانے پر بلی گرفتار، حوالات میں بند کردیا گیا
اموات اور کیسز میں کمی
تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان ممالک میں ویکسینیشن مہمات نے ان بیماریوں کے کیسز اور اموات دونوں میں تقریباً 60 فیصد کمی کی، کچھ بیماریوں کے حوالے سے یہ اثر اور بھی نمایاں تھا، مثلاً یلو فیور کی وباؤں کے دوران اموات میں 99 فیصد کمی، جب کہ ایبولا کے لیے یہ شرح 76 فیصد رہی۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 48 سے پی ٹی آئی امیدوار علی بخاری کی درخواست پر حکم امتناعی جاری
معاشی فوائد کا تخمینہ
ساتھ ہی تحقیق نے یہ بھی بتایا کہ ہنگامی ویکسینیشن نے وباؤں کے مزید پھیلنے کے خطرے کو مؤثر طریقے سے کم کیا۔ اس کے علاوہ ویکسینیشن سے ہونے والے معاشی فوائد کا بھی تخمینہ لگایا گیا، جس کے مطابق ان 210 وباؤں کے دوران کیے گئے اقدامات کی بدولت صرف اموات اور معذوری سے بچائی گئی زندگیوں کے ضمن میں کم از کم 32 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے قومی ٹیم کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دے دی، انڈیا کے خلاف میچ سے منع کردیا
تحقیق کی حدود
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ معاشی تخمینہ غالباً اصل بچت سے کہیں کم ہے، کیونکہ اس میں ہنگامی ردعمل کے اخراجات یا بڑی وباؤں سے پیدا ہونے والی سماجی و معاشی رکاوٹوں کو شامل نہیں کیا گیا۔
ایبولا کی وبا کا اثر
مثال کے طور پر 2014 میں کسی منظور شدہ ویکسینیشن کی عدم موجودگی میں مغربی افریقہ میں ایبولا کی بڑی وبا نے عالمی سطح پر کیسز کو جنم دیا اور صرف مغربی افریقی ممالک کو اس سے 53 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔








