2025 اور اس کے بعد پاکستان مزید ترقی کرے گا: آئی ایم ایف
آئی ایم ایف کی ترقی کی پیشگوئی
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں 2025 اور اس کے بعد مزید ترقی کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کابینہ کے 10 ارکان نے حلف اُٹھا لیا
پاکستان میں مالیاتی اصلاحات
ڈان نیوز کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کے پاکستان میں نمائندے، ماہر بینیچی نے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) میں اپنے لیکچر میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) خطے اور پاکستان میں بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے پر روشنی ڈالی اور پاکستان کی معاشی اور موسمیاتی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے فنڈ کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اتحاد ٹاؤن فیز 3 کا پری لانچ پیمنٹ پلان جاری
بینیچی کا مؤقف
ایس ڈی پی آئی میں ماہرینِ معیشت، محققین اور پالیسی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان میں ترقی 2025 اور اس کے بعد مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا، وائٹ ہاؤس کی تصدیق
عالمی چیلنجز کی نشاندہی
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور عالمی تعاون کی کمزوری عالمی معاشی منظرنامے پر غیر معمولی غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے، جس سے محتاط اور دور اندیش پالیسی اقدامات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔’
یہ بھی پڑھیں: بھارت سینٹرل ایشیا والی بال چیمپئن شپ سے فرار ہو گیا
پاکستان کی معاشی کارکردگی
پاکستان پر بات کرتے ہوئے بینیچی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (EFF) کے تحت ملک کی کارکردگی ’اب تک مضبوط رہی ہے’، اور انہوں نے مئی 2025 میں آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پہلے جائزے کی کامیاب تکمیل کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں چھٹی بار غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کردی
طویل المدتی اصلاحات کی ضرورت
آئم ایف کے نمائندے نے مزید کہا کہ ’ابتدائی پالیسی اقدامات نے بیرونی چیلنجز کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ قائم کرنے میں مدد دی ہے۔’
انہوں نے زور دیا کہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پاکستان کی طویل المدتی معاشی پائیداری کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں، خاص طور پر ایسی اصلاحات جو ٹیکس کے نظام میں برابری کو مضبوط بنائیں، کاروباری ماحول کو بہتر کریں اور نجی شعبے کی قیادت میں سرمایہ کاری کو فروغ دیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سپر ہائی وے پر خوفناک ٹریفک حادثہ، متعدد گاڑیاں ٹکرا گئیں، بچے سمیت 4 افراد جاں بحق
موسمیاتی اصلاحات
انہوں نے آئی ایم ایف کے ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (RSF) کے تحت پاکستان کی موسمیاتی اصلاحات کی پیش رفت کو بھی اُجاگر کیا۔ بینیچی کے مطابق، آر ایس ایف ایسے ممالک کو مدد فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ وہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکیں اور بین الاقوامی موسمیاتی وعدوں کو پورا کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے کراچی جانے والی تیز گام ایکسپریس ٹرین میں رائیونڈ کے قریب آتشزدگی
سماجی و اقتصادی ترقی کی راہیں
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایف کے تحت اصلاحات کے کلیدی شعبوں میں عوامی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کو بہتر بنانا، پانی کے وسائل کے مؤثر اور پائیدار استعمال کو فروغ دینا، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مالی معاونت کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بہتر بنانا، اور موسمیاتی ڈیٹا کی دستیابی اور شفافیت کو بڑھانا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں 2300 روپے اضافہ
آر ایس ایف کا اثر
بینیچی نے زور دیا کہ ’آر ایس ایف کے ذریعے تعاون نہ صرف پاکستان کی موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط کرے گا بلکہ سبز سرمایہ کاری کو بھی متحرک کرے گا اور ایک زیادہ ماحول دوست معاشی سمت کو فروغ دے گا۔’
یہ بھی پڑھیں: لاہور، ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی ڈیکلیئر، اگلے جمعہ، ہفتہ اور اتوار مکمل لاک ڈاؤن پر غور
ایس ڈی پی آئی کا کردار
ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے آئی ایم ایف کے نمائندے کی آمد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے پائیدار ترقی کے سفر میں معلوماتی معاشی مکالمے اور کثیر الجہتی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
اختتامی بحث
لیکچر کا اختتام مالی اور زری پالیسی کے فریم ورک، بیرونی ذخائر اور جامع ترقی کے فروغ میں بین الاقوامی اداروں کے کردار پر ایک معلوماتی بحث کے ساتھ ہوا۔








