مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر سماعت؛فریقین کے دلائل مکمل، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا
الیکشن کمیشن کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کے پی سے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے اولمپک کھلاڑی نے اخراجات پورے کرنے کے لیے فحش ویب سائٹ پر مواد ڈالنا شروع کردیا، ہنگامہ برپا ہوگیا
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں کے پی سے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کی شاہ مردان میں سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملے کی شدید مذمت
مسلم لیگ ن کے وکیل کا مؤقف
وکیل مسلم لیگ ن نےکہاکہ میرے امیدوار کو 22فروری کو نوٹیفائی کیاگیا، اس کے 3دن تو اسی روز سے شمار ہوتے ہیں، اب میرے امیدوار کو حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جے یو آئی اور ہماری جنرل سیٹیں برابر تو مخصوص نشستیں کیوں نہیں؟ ہمیں 8 اور جے یو آئی کو 10سیٹیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟ دونوں جماعتوں کو 9،9 مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں تھیں، قانون کے مطابق نشستیں برابر ہونے پر ٹاس ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لکی مروت، شمالی وزیرستان اور عمر کوٹ سے پولیو کا ایک ایک کیس سامنے آ گیا
عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل کی دلیل
عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل نے کہاکہ ضمنی انتخاب میں ہم ایک سیٹ جیتے ہیں، عام انتخابات کے نتائج کے مطابق نشستیں دی جائیں، ضمنی انتخابات کے مطابق نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن دو مراحل میں ہوئے، پہلے تو سنی اتحاد کونسل والا معاملہ حل نہیں ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یوسف کا والد دل کا مریض، والدہ کو برین ٹیومر ہے، ڈور پھرنے سے جاں بحق، گھر کا اکیلا سہارا یوسف اپنے پیچھے المناک کہانی چھوڑ گیا
پی ٹی آئی کی نمائندگی
وکیل پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے کہاکہ جنرل نشستوں کے مطابق ہی مخصوص نشستیں ملتی ہیں، جتنی جنرل نشستیں ہوں گی اتنی ہی مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں۔ سب سے اہم مسئلہ آخری تاریخ کا تعین کرنا ہے، قانون میں نہیں کہ کس تاریخ تک مخصوص نشستوں کا فیصلہ کرنا لازم ہے, ضمنی الیکشن کو بھی دیکھا گیا تو معاملہ مزید گھمبیر ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تائیوان میں زلزلے کے شدید جھٹکے
سندھ کے ایک رکن کی رائے
ممبر سندھ نے کہاکہ ضمنی الیکشن میں سیٹیں کم ہو جائیں تو کیا مخصوص نشستیں بھی کم ہو سکتی ہیں؟ وکیل پی ٹی آئی پی نے کہا کہ جی نہیں، اسی صورت میں مخصوص نشستیں واپس نہیں لی جا سکتیں۔ تحفظات ہیں، ہمارے دو نمائندوں کو ایک شمار کیا گیا، نوٹیفکیشنز کے ساتھ دیکھا جائے تو ہماری 2 مخصوص نشستیں بنتی ہیں۔
فیصلہ محفوظ
فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔







