مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر سماعت؛فریقین کے دلائل مکمل، الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا
الیکشن کمیشن کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)کے پی سے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: صارفین کی شکایات کے ازالے کیلیے لیسکو ہیڈ کوارٹرز میں ای کچہری، فوری احکامات جاری
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن میں کے پی سے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے پر سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کے سیاسی بحران کے بعد تیل کی قیمتیں گر گئیں
مسلم لیگ ن کے وکیل کا مؤقف
وکیل مسلم لیگ ن نےکہاکہ میرے امیدوار کو 22فروری کو نوٹیفائی کیاگیا، اس کے 3دن تو اسی روز سے شمار ہوتے ہیں، اب میرے امیدوار کو حق رائے دہی سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جے یو آئی اور ہماری جنرل سیٹیں برابر تو مخصوص نشستیں کیوں نہیں؟ ہمیں 8 اور جے یو آئی کو 10سیٹیں کیسے دی جا سکتی ہیں؟ دونوں جماعتوں کو 9،9 مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں تھیں، قانون کے مطابق نشستیں برابر ہونے پر ٹاس ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیلا روس کے صدر الیگزینڈر کاشینکو کی وزیراعظم ہاؤس آمد، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل کی دلیل
عوامی نیشنل پارٹی کے وکیل نے کہاکہ ضمنی انتخاب میں ہم ایک سیٹ جیتے ہیں، عام انتخابات کے نتائج کے مطابق نشستیں دی جائیں، ضمنی انتخابات کے مطابق نہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن دو مراحل میں ہوئے، پہلے تو سنی اتحاد کونسل والا معاملہ حل نہیں ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای کے وزیر خارجہ آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے
پی ٹی آئی کی نمائندگی
وکیل پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے کہاکہ جنرل نشستوں کے مطابق ہی مخصوص نشستیں ملتی ہیں، جتنی جنرل نشستیں ہوں گی اتنی ہی مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں۔ سب سے اہم مسئلہ آخری تاریخ کا تعین کرنا ہے، قانون میں نہیں کہ کس تاریخ تک مخصوص نشستوں کا فیصلہ کرنا لازم ہے, ضمنی الیکشن کو بھی دیکھا گیا تو معاملہ مزید گھمبیر ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دھرمیندر کی حالت تشویشناک
سندھ کے ایک رکن کی رائے
ممبر سندھ نے کہاکہ ضمنی الیکشن میں سیٹیں کم ہو جائیں تو کیا مخصوص نشستیں بھی کم ہو سکتی ہیں؟ وکیل پی ٹی آئی پی نے کہا کہ جی نہیں، اسی صورت میں مخصوص نشستیں واپس نہیں لی جا سکتیں۔ تحفظات ہیں، ہمارے دو نمائندوں کو ایک شمار کیا گیا، نوٹیفکیشنز کے ساتھ دیکھا جائے تو ہماری 2 مخصوص نشستیں بنتی ہیں۔
فیصلہ محفوظ
فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔








