جائیدادوں کی جعلی دستاویزات بنانے کا کیس، حتمی چالان عدالت میں جمع
کیس کا پس منظر
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ کراچی میں اربوں روپے کی 26 جائیدادوں کے جعلی دستاویزات تیار کرنے کے کیس کا حتمی چالان جمع کرایا گیا جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور نیتن یاہو قریبی دوست، یوکرین کی جنگ روکنا ترجیح ہوگی، ملیحہ لودھی
ملزمان کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چالان کے مطابق مقدمے میں سرکاری افسران سمیت 32 افراد نامزد ہیں جبکہ 23 ملزمان مفرور ہیں۔ کیس کے مرکزی ملزم منور علی دھاریجو سمیت 9 ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلوبل سسٹم برائے موبائل کمیونیکیشن ایسوسی ایشن کا پاکستان میں عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کا مطالبہ
جعلی دستاویزات کی تیاری
چالان میں بتایا گیا ہے کہ کچھ جائیدادیں منور علی دھاریجو کے بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کے نام پر منتقل کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے بھارت میں موجودگی کی اطلاع ملی تو پاکستانی سفارتخانے نے ظہرانہ کا اہتمام کیا، 10 مہر بند باضابطہ دعوت نامے کمرے میں موجود تھے۔
مرکزی ملزم اور اس کی سرگرمیاں
چالان کے مطابق مرکزی ملزم منور علی دھاریجو سب رجسٹرار آفس جمشید ٹاؤن میں سینئر کلرک تعینات ہے اور اس نے 23 جائیــداتوں کی جعلی دستاویزات تیار کیں۔ کیس کے اندراج کے بعد جونیئر کلرک محمد مختیار، ذوالفقار علی کیریو اور خالد علی چنا کو گرفتار کیا گیا۔
مالی نقصان اور قانونی کارروائی
چالان میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے ملی بھگت، دھوکا دہی اور فراڈ کے ذریعے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔ سینئر کلرک، پیش کار سب رجسٹرار جمشید ون نے ذاتی فائدے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کیں۔ کیس میں مزید کارروائی آئندہ سماعت پر کی جائے گی۔








