وہ گالیاں نہیں، چیخیں، اچھا ہوتا اس کا حال پوچھا ہوتا، تجزیہ نگار انیق ناجی نے “وائرل چاچا” کی ویڈیو کے بعد صورتحال کا نقشہ کھینچ دیا
بارش میں پریشانی: ایک ادھیڑ عمر شخص کی کہانی
لاہور (ویب ڈیسک) بارش کے پانی میں پریشانی سے دوچار ایک ادھیڑ عمر شخص نے ریاستی ذمہ داران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے جس پر اسے گرفتار کرلیا گیا اور معافی منگوائی گئی۔ جس کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تجزیہ نگار انیق ناجی نے بھی اپنا موقف پیش کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: حماس کو اپنے ہتھیار ترک کرنا ہوں گے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اسے تباہ کردیا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ
انیق ناجی کا نقطہ نظر
سوشل میڈیا پر انیق ناجی کا کہنا تھا کہ "ایک مجبور دکھی آدمی جو بارش میں کھڑے گندے پانی سے اپنی موٹر سائیکل پر گزر رہا ہے، جلا ہوا مزاج لیے وہ دو گالیاں نکال دیتا ہے۔ وہ گالیاں نہیں تھیں اس کا سسکنا تھا، اس کی چیخیں تھیں۔ وہ سینہ پھاڑ کر اپنا حال بتا رہا تھا۔ رو نہیں سکتا تھا، بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔ اچھا ہوتا اس کا حال پوچھا ہوتا، اس کے آنسو پونچھے ہوتے۔ اس سے معافی مانگی جاتی کہ سختی سے تم اور لاکھوں اور بھی، دیوانے ہو چکے ہیں اور دیوانوں کی گالی، جرم نہیں ہے۔ کم سے کم یہ کہ نظر انداز کر دیا ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایبٹ آباد: بیٹے نے والدین کو کنویں میں پھینک دیا، لاشیں برآمد، ملزم گرفتار
پولیس کی کارروائی
مگر نہیں، اسے اٹھانا بھی تھا، پولیس کے پہرے میں معافی بھی منگوانی تھی کیونکہ رعب رکھنا تھا۔ نتیجہ یہ ملا کہ چار چاچے اور کھڑے ہو گئے اور اب ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔ خدا ایسے رعب سے بچائے جو صرف ڈنڈے پر قائم ہو، اگر دلوں میں احترام نہیں تو کچھ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ریجن میں 39 افراد کے پاس 198 شیر اور چیتے ہونے کا انکشاف
سیاسی جماعت کا ردعمل
ن لیگ کے چند ناموں کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ ان سے مشورہ نہیں کیا گیا ورنہ وہ ایسا کبھی نہ ہونے دیتے (اور اب صدمے میں بھی ہوں گے)، وہ درگزر کی بات کرتے، وہ کہتے کہ پریشان حال کی ذہنی حالت نارمل نہیں ہوتی اس لیے اسے معافی دی جاتی ہے، مگر نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سے ایتھلیٹ مونا خان کی ملاقات، پنجاب حکومت خواتین کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کررہی ہے:مریم نواز
انسانیت کی حیثیت
اس ویڈیو میں اس آدمی کی جگہ اسی طرح خود کو رکھ کر دیکھیں، دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں کہ اس حالت میں آپ کبھی حکومت کو دعا دیتے؟ حکومت کی توہین کا معاملہ، کسی مذہب یا عقیدے کی توہین جیسا نہیں ہے جسے برداشت نہ کیا جائے۔ کیا برطانیہ میں لوگ حکومت کو گالیاں نہیں نکالتے؟ فساد کی دعوت ایک قطعی مختلف معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال پر امریکی وزیر خارجہ کا رد عمل
معافی اور انسانیت
ایمان کی طاقت، سزا پر اختیار ہوتے ہوئے بھی کسی غریب پریشان حال، دیوانگی کے شکار کمزور کو جو غصے میں ہوش و حواس کھو بیٹھا، ذاتی توہین پر معاف کر دینے میں چھپی ہوتی ہے۔ معافی کا اعلان کیا ہوتا یا نظر انداز تو یہ لائق شان تھا نہ کہ وہ جو ہوا، وہ جو ایک اے ایس آئی بھی کرتا، کوئی ٹریفک کانسٹیبل۔
مستقبل کی توقعات
یاد رہے یہ دن گزر جائیں گے، ایک دن پولیس کا پہرہ ہٹ جائے گا۔ وہ دن، دس سال کے بعد آئے یا دس مہینے بعد، کوئی نہیں جانتا۔ پھر غصے میں بپھرے انہیں لوگوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں، تمام عمر۔
ایک مجبور دکھی آدمی جو بارش میں کھڑے گندے پانی سے اپنی موٹر سائیکل پر گزر رہا ہے، جلا ہوا مزاج لئے وہ دو گالیاں نکال دیتا ہے۔
وہ گالیاں نہیں تھیں اس کا سسکنا تھا، اس کی چیخیں تھیں۔ وہ سینہ پھاڑ کر اپنا حال بتا رہا تھا۔ رو نہیں سکتا تھا، بھیک نہیں مانگ رہا تھا۔ اچھا ہوتا اس کا حال…— Aniq Naji (@aniqnaji) July 13, 2025








