اس کا مسکراتا چہرہ اور بولتی آنکھیں: ایک دل کو چھو جانے والی ملاقات
مصنف اور قسط کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 228
یہ بھی پڑھیں: عام انتخابات میں ووٹ چرائے، 100 سے زیادہ نشستوں پر ہیرا پھیری کی گئی: رہول گاندھی کا دھماکہ خیز انکشاف، مودی کے انتخابی فراڈ کا پردہ چاک کر دیا
میرے خلاف ایکشن لیں گے؟
میں نے اچھی شہرت والے محکمہ تعلیم کے اساتذہ لگائے۔ جس روز پولنگ سامان تقسیم ہوا ایک خاتون جس کا نام شاید رفعت پروین یا کوثر پروین تھا مقررہ وقت گزرنے کے کئی گھنٹے تک ڈیوٹی اور پولنگ بیگ لینے نہ پہنچی تو تشویش بڑھتی گئی کہ لگائے گئے عملے میں ایک کا بنا جواز نہ آنا میرے لئے ندامت کا باعث ہو سکتا تھا کہ جان بوجھ کر عملہ تبدیل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کا یو اے ای، سعودی عرب، قطر اور کویت کے نام خط، اپنی سرزمین تہران کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ۔
سیاستدانوں کی روش
اس ملک میں سیاست دان اصل بات چھپا کر صرف اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ جھوٹ بولتے بالکل نہیں جھکتے۔ اُس غیر حاضر خاتون کے خلاف کارروائی کے لئے چھٹی راجہ جاوید اکاؤنٹ کلرک کو ڈرافٹ کرائی اور متبادل کے لئے نئے آ ڈرز بھی۔ دل میں سوچ رہا تھا کہ آغاز اچھا نہیں۔ اے سی بھی کیا سوچے گا کہ الیکشن سے پہلے ایک وارڈ کا عملہ بھی پورا نہ کر سکا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر ممکنہ امریکی حملہ، ٹرمپ کے پاس فوجی آپشنز کیا ہیں؟
غلام محمد کی نوید
اسی سوچ میں ڈوبا غصے میں بیٹھا تھا کہ غلام محمد کہنے لگا؛ "سر! وہ خاتون آگئی ہے۔" نظر پڑی تو وہ استانی کم اور ماڈل زیادہ لگتی تھی۔ کھلتا سانولا رنگ، تیکھے نین اور گداز بدن۔ ایسے چہرے اکثر مرد کی کمزوری ہی ہوتے ہیں اور یہ میری بھی کمزوری تھی لیکن یہ کمزوری دکھانے کا وقت نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب سے 2200 دیہات زیر آب، 20 لاکھ افراد متاثر، اموات 33 ہوگئیں
ملاقات اور چیختی آنکھیں
وہ میرے سامنے آ کر بیٹھ گئی۔ میں نے غلام محمد سے کہا؛ "انہیں ان کے آ ڈرز دو۔" وہ بولی؛ "سر! آ ڈرز میرے پاس ہیں۔" میں نے کہا؛ "آپ کی معطلی کے آڈرز کی بات کر رہا ہوں۔" اس کا مسکراتا چہرہ اور بولتی آنکھیں دونوں ہی سپاٹ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے اپنی معذوری کی وجہ سے سیکس کی پیشکش بطور احسان کی جاتی ہے
معطلی کی بات اور دلی کیفیات
لمحوں کی خاموشی کے بعد میرے میز پر جھکتے اور آنکھوں میں جھانکتے بولی؛ "سر! کیا آپ مجھے معطل کریں گے؟" میں نے جواب دیا؛ "خود کو معطل ہی سمجھو۔" اب اس کے چہرے کا رنگ ایسا پھیکا پڑا کہ لگا سانس ہی رک جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: چونیاں: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے گاڑی میں سوار انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی جاں بحق
کہانی کی دھارا
غلام محمد بولا؛ "بی بی! تمھیں وقت پر آنا چاہیے تھا۔ صاحب دیر سے انتظار کر رہے تھے۔ ہمیں ابھی بہت کام کرنے ہیں۔" وہ بولی؛ "سر! مجھے معاف کر دیں۔ بس غلطی ہو گئی۔ مجھے کبھی دیر سے آنے پر کسی نے ڈانٹا ہی نہیں۔" میں نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ڈانٹ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں بادل برسنے کی پیش گوئی
اگلی صبح کے واقعات
وہ منت سماجت پر اتر آئی۔ غلام محمد کی سفارش کام کر گئی۔ سچ تھا سفارش تو وہ خود بھی تگڑی تھی۔ مجھے بھی اسے صرف احساس ہی دلانا تھا۔ خیر یہ مرحلہ خوش اسلوبی سے طے ہوا۔ میں نے اے سی کو سب او کے کی رپورٹ کی۔ اگلے روز الیکشن تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خان اکیڈمی کا پاکستان میں اساتذہ کو اے آئی ٹولز کے ذریعے تربیت کی فراہمی کا معاہدہ
الیکشن کا دن
الیکشن والے دن اے سی جیپ خود چلاتے میرے دفتر آئے۔ مجھے ساتھ لیا اور ہم صبح 9 بجے ہی پولنگ اسٹیشن پر جا پہنچے۔ ہائی سکول کے لان میں 2 کرسیاں بچھوائیں۔ کچھ سنگترے منگوائے اور 2 گھنٹے وہیں بیٹھے گپ شپ کرتے رہے۔ گڑبڑ کا منصوبہ اگر کوئی تھا بھی تو ناکام ہو گیا تھا۔ سارا الیکشن پر امن رہا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر عوامی معاہدے کے کتنے مطالبات پر عملدرآمد ہوچکا، کتنی ایف آئی آرز واپس لے لی گئیں؟ انجینئر امیر مقام نے بتا دیا
نتیجہ
میاں طارق کا حمایتی امیدوار ہار گیا۔ سیاست دان اپنے مفاد کے لئے ہنگامے کرا بھی سکتے ہیں اور رکوا بھی سکتے ہیں لیکن حکومت سے ٹکر نہیں لی جا سکتی۔ حکومت سے بڑا کوئی بد معاش ہوتا بھی نہیں۔
ختم ہوا
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








