پختونخوا کے عوام کی اکثریت احتجاج کیخلاف، 53 فیصد نے کسی بھی احتجاج میں جانے سے انکار کیا: سروے
لاہور میں نئے سروے کا اعلان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) عوامی آرا جاننے والے ادارے گیلپ پاکستان نے خیبرپختونخوا کے حوالے سے نیا سروے جاری کردیا جس میں شہریوں کی اکثریت نے کسی بھی احتجاج کی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم سے جسٹس منصور کا راستہ رُکا ، رانا ثنا اللہ کا اعتراف
احتجاج کے خلاف عوام کی رائے
گیلپ کے سروے کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام کی اکثریت نے احتجاج کے خلاف رائے دی اور 85 فیصد نے صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مشورہ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کی منظوری ملکی تاریخ میں سنگ میل ہے: گورنر پنجاب
حمایت کا تناسب
سروے کے مطابق وفاق سے تعاون کی حمایت اپوزیشن کے علاوہ 86 فیصد پی ٹی آئی سپورٹرز نے بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کی مقامی عدالت کا 27 یوٹیوب چینلز بلاک کرنے کا حکم، تحریری فیصلہ جاری
مظاہروں میں شرکت کا ارادہ
مستقبل میں پی ٹی آئی کے مظاہروں میں شرکت کے سوال پر 53 فیصد نے کسی بھی احتجاج میں جانے سے انکار کیا، البتہ 40 فیصد نے شرکت کا ارادہ ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مستقبل کے حوالے سے تبصروں کے بجائے اپنی فٹنس اور پرفارمنس پر توجہ دیں، بھارتی بورڈ کا روہت شرما کو واضح پیغام
ماضی کے دھرنوں پر رائے
سروے میں 60 فیصد شہری صوبائی حکومت کے ماضی میں دھرنوں اور احتجاج سے بھی ناراض نظر آئے اور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے دھرنے اور احتجاج پر وقت ضائع کیا۔
وفاق کے خلاف احتجاج کی مؤثر قرار
32 فیصد نے ماضی میں احتجاج کی حمایت کی، اس سب کے باوجود سروے میں شامل 60 فیصد شہریوں نے وفاق کے خلاف احتجاج کو درست حکمت عملی قرار دیتے ہوئے اسے تبدیلی کے لیے مؤثر قرار دیا۔








