چینی کی قیمت کا معاملہ، ن لیگ نظام حکومت چلانا بھول گئی؟ اسد علی طور کا خرم دستگیر کو ایکس پر جواب
اسد علی طور کی چینی کی قیمتوں پر تنقید
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی اسد علی طور نے چینی کی قیمتوں سے متعلق ن لیگ کے رہنما خرم دستگیر کے سوشل میڈیا پر جاری پیغام پر جواب دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنادیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کابینہ کمیٹی کا راولپنڈی کا دورہ، امن کمیٹی اور علماء ومشائخ سے ملاقات
چینی کی قیمتوں میں اضافہ
تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی ماجد نظامی نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ "ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال میں چینی کی قیمت میں 29% اضافہ ہوا ہے یعنی 55 روپے کلو مہنگی ہوئی ہے۔ اس معاملے پر ن لیگی، پیپلز پارٹی کے حکومتی عہدیدار مکمل سکتے میں ہیں کیونکہ صدر زرداری کے دوست انور مجید کی 9 شوگر ملز جبکہ شہbaz شریف، مریم نواز کے رشتےداروں کی 8 شوگر ملز ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: حسن مرتضیٰ کے والد کی چنیوٹ میں تدفین، بلاول بھٹو زرداری، محسن نقوی سمیت متعدد شخصیات کا اظہار تعزیت
خرم دستگیر کا جواب
خُرم دستگیر صاحب تو 2018 کے بعد ن لیگ کیا نظام حکومت چلانا بھول گئی یا 9 اپریل 2022 سے پاکستان میں چائنا کے ڈمی شہباز شریف وزیر اعظم ہیں اور ن لیگ اپوزیشن میں ہے؟ https://t.co/aMioWB8iie
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) July 14, 2025
یہ بھی پڑھیں: فخر زمان اور عمر اکمل جیسے کھلاڑیوں کو سائیڈ لائن کیا جائے تو ٹیم کی پرفارمنس ایسی ہی ہو گی، کامران اکمل کا پہلی شکست پر رد عمل
ن لیگ کی حکومتی کارکردگی
اس پر ن لیگ کے رہنما خرم دستگیر نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت 2013 سے 2018 تک چینی کی قیمت میں ایک روپیہ کمی ہوئی اور قیمت 53 سے 52 روپے ہوئی۔
اسد علی طور کا تیسرا ردعمل
سینئر صحافی اسد علی طور نے بھی میدان میں اینٹری ماری اور ن لیگی رہنما کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "خرم دستگیر صاحب تو 2018 کے بعد ن لیگ کیا نظام حکومت چلانا بھول گئی یا 9 اپریل 2022 سے پاکستان میں چائنا کی ڈمی شہباز شریف وزیر اعظم ہیں اور ن لیگ اپوزیشن میں؟"








