اسلام آباد ہائیکورٹ: توہینِ مذہب کیسز کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی تشکیل کا حکم
اسلام آباد کی خبریں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کیلئے حکومت کو کمیشن تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں غزہ کے طلبہ کی آمد: “جب لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ ہم فلسطینی ہیں تو کوئی بھی پیسے نہیں لیتا”
عدالت کا فیصلہ
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ہائیکورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکومت کو کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا پر پاکستانی ایف16 گرانے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں : سیکیورٹی ذرائع
کمیشن کی تشکیل کا وقت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو 30 دن میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن چار ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کمیشن کو اگر مزید وقت چاہیے ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان کے چوتھے روز عمرہ کرنے والوں کی تعداد نے نیا ریکارڈ قائم کردیا
سوشل میڈیا میں بحث
واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے یہ مقدمہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لوگوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنسایا جاتا ہے۔ اس کام میں ایک خاتون کے ساتھ ایک وکیل اور ایف آئی اے کے اہلکار ملے ہوئے ہیں جو نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرکے توہین مذہب کے مقدمات میں پھنساتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی میں 2 سابق کپتانوں کی شمولیت
الزامات کی نوعیت
اس فریق کا الزام ہے کہ لوگوں کو واٹس ایپ پر مختلف گروپوں میں ایڈ کیا جاتا ہے۔ پھر ان گروپوں میں مبینہ طور پر گستاخانہ مواد شیئر کیا جاتا ہے۔ جب نیا ممبر اس کی شکایت ایڈمن سے کرتا ہے تو ایڈمن اسے سکرین شارٹ بھیجنے کا کہتا ہے، لوگ اچھی نیت کے ساتھ یہ سکرین شارٹ ایڈمن کے ساتھ شیئر کرتے ہیں لیکن انہی سکرین شارٹس کو بنیاد بنا کر لوگوں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات قائم کروادیے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں تشدد، اغوا اور بھتے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
دفاعی موقف
دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ کیسز تو کئی سال پہلے رجسٹرڈ ہوئے لیکن پہلے تو تشدد، اغوا یا بھتے کی کوئی شکایت نہیں آئی۔ بعض کیسز میں کئی سو صفحات تک کا ڈیٹا موجود ہے جو گستاخانہ مواد پر مبنی ہے۔








