اسلام آباد ہائیکورٹ: توہینِ مذہب کیسز کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی تشکیل کا حکم
اسلام آباد کی خبریں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کیلئے حکومت کو کمیشن تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء کے شیڈول کا اعلان
عدالت کا فیصلہ
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کی درخواستوں پر سماعت کی۔ ہائیکورٹ نے درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکومت کو کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں: فلم کے دوران ڈائریکٹر نے ہراساں کیا اور بیڈ تک آگیا، فرح خان کا کئی سال بعد انکشاف
کمیشن کی تشکیل کا وقت
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو 30 دن میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن چار ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کمیشن کو اگر مزید وقت چاہیے ہو تو عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افواجِ پاکستان دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہیں: سیکیورٹی ذرائع
سوشل میڈیا میں بحث
واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے یہ مقدمہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ کچھ لوگوں کا الزام ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لوگوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنسایا جاتا ہے۔ اس کام میں ایک خاتون کے ساتھ ایک وکیل اور ایف آئی اے کے اہلکار ملے ہوئے ہیں جو نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرکے توہین مذہب کے مقدمات میں پھنساتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کریں گے، فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، وزیراعظم
الزامات کی نوعیت
اس فریق کا الزام ہے کہ لوگوں کو واٹس ایپ پر مختلف گروپوں میں ایڈ کیا جاتا ہے۔ پھر ان گروپوں میں مبینہ طور پر گستاخانہ مواد شیئر کیا جاتا ہے۔ جب نیا ممبر اس کی شکایت ایڈمن سے کرتا ہے تو ایڈمن اسے سکرین شارٹ بھیجنے کا کہتا ہے، لوگ اچھی نیت کے ساتھ یہ سکرین شارٹ ایڈمن کے ساتھ شیئر کرتے ہیں لیکن انہی سکرین شارٹس کو بنیاد بنا کر لوگوں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات قائم کروادیے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں تشدد، اغوا اور بھتے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
دفاعی موقف
دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ کیسز تو کئی سال پہلے رجسٹرڈ ہوئے لیکن پہلے تو تشدد، اغوا یا بھتے کی کوئی شکایت نہیں آئی۔ بعض کیسز میں کئی سو صفحات تک کا ڈیٹا موجود ہے جو گستاخانہ مواد پر مبنی ہے۔








