سرکاری ملازمین کی ترقی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کے اہل افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروموشن دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالیہ بھٹ کے ساتھ 77 لاکھ روپے کا فراڈ؛ سابق اسسٹنٹ گرفتار
کیس کی تفصیلات
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو کو گریڈ 22 میں ترقی نہ ملنے کیخلاف کیس میں جسٹس محمد علی مظہر نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ ترقی کا حق نہ سہی لیکن ہر سرکاری ملازم کو زیر غور لایا جانا بنیادی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کامیاب ہوں گے، ایران مڈنائٹ ہیمر جیسی کارروائی دوبارہ نہیں چاہے گا: ٹرمپ
ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا فیصلہ
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ دوبارہ 2 ماہ میں درخواست گزار کا کیس میرٹ پر سنے۔ درخواست گزار پولیس سروس کے سینئر افسر تھے مگر 3 بار ترقی سے محروم رہے۔ درخواست گزار کی 2013 سے 2018 تک تمام کارکردگی رپورٹس بہترین تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ غازی خان میں دھی رانی پروگرام کے تحت 118 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی
عدالت کا موقف
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ نے بغیر ٹھوس وجہ ترقی نہ دی۔ 2019 کی کارکردگی رپورٹ نہ ہونے کی وجہ فیلڈ پوسٹنگ کا نہ ملنا تھا۔ ترقی کے اہل افسر کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروموشن دی جا سکتی ہے۔
انصاف کی ضرورت
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ منٹس میں منفی ریمارکس بغیر کسی ثبوت کے شامل کیے گئے۔ درخواست گزار کی ساکھ پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ ریٹائرڈ افسران کو دیر سے انصاف دینا غیر منصفانہ ہے۔ تمام سرکاری ادارے ترقی کے معاملات میں شفاف اور فوری فیصلے کریں۔








