ٹڈاپ میگا کرپشن: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی تمام مقدمات سے بری
اسلام آباد میں ٹڈاپ میگا کرپشن کیس کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹڈاپ میگا کرپشن کیسز میں عدالت نے چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا جبکہ مفرور ملزموں کے کیسز کو الگ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی اور بیٹی کے مبینہ اغواء کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام، ڈی ایس پی عثمان حیدر معطل
عدالت کی سماعت کا معاملہ
نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے مطابق وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ میں ٹڈاپ میگا کرپشن کیسز کی سماعت ہوئی، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو باقی 14 مقدمات میں بھی بری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں ترمیم قبول تھی، نہ 27 ویں ترمیم قبول کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
وکیل صفائی کا بیان
دوران سماعت وکیل صفائی فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ ان کے نام پر 50 لاکھ روپے کمیشن لیا گیا، تمام مقدمات میں یہی الزام ہے، یوسف رضا گیلانی بے گناہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ 5 نومبر کو طلب کرنے کا فیصلہ، سمری وزیراعظم کو ارسال
عدالت کے ریمارکس
عدالت نے ریمارکس دیے کہ گیلانی صاحب کے اکاؤنٹ میں پیسے تو آئے نہیں، اگر ان کے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل ہوتے تو ہم ان سے نکلوا لیتے۔ کیس کے وعدہ معاف گواہ کو ملزم بنا دیا گیا، کچھ مقدمات کا ریکارڈ ہائیکورٹ میں موجود ہے، ہم ہائیکورٹ سے درخواست کریں گے کہ ریکارڈ بھیج دیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
کچھ حقائق
ایف آئی اے نے یوسف رضا گیلانی پر ٹڈاپ میگا کرپشن کے 26 مقدمات درج کیے تھے، یوسف رضا گیلانی 12 مقدمات میں پہلے ہی بری ہو چکے ہیں جبکہ آج عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو مزید 14 مقدمات میں بری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کی مزید دستاویزات جاری کرنے کے بل پر دستخط کردیے۔
ٹڈاپ کرپشن کیسز کی شروعات
ٹڈاپ کرپشن کیسز کی تحقیقات کا آغاز 2009 میں ہوا تھا، ایف آئی اے نے مقدمات کا اندراج 2013 میں شروع کیا اور یوسف رضا گیلانی کو 2015 میں مقدمات کے حتمی چالان میں بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں نوجوان لڑکی نے ’چیٹ جی پی ٹی‘ سے شادی کر لی
میڈیا سے گفتگو
بعدازاں چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے، فاروق ایچ نائیک نے بہترین انداز میں کیس لڑا، اللہ کا شکر ہے کہ آج عدالت نے تمام کیسز میں باعزت بری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں پاکستان-یو اے ای ٹریڈ کانفرنس اور بزنس نیٹ ورکنگ ایونٹ کا انعقاد کیاگیا
قانون سازی پر بیان
انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کیسز بنائے میں ان کا اتحادی ہوں، ان کو چھوڑ بھی نہیں سکتا، مشکل وقت میں بھی ان کا ساتھ دیں گے، قانون سازی ہونی چاہیے، فیصلہ نہ ہو تو کیس ختم ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے جو کرتوت کئے ہیں، بھگت کر ہی باہر آئیں گے، جلسوں سے آزادی نہیں ملے گی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
چیئرمین سینیٹ کا بیان
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں نے قانون سازی کرائی تھی کہ جو لوگ وعدہ معاف گواہ بن جاتے ہیں، اگر وہ کیس ثابت نہ کرسکیں تو انہیں بھی وہی سزا ہونی چاہیے جو ایک مجرم کو ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اسرائیل، امریکہ اور ایران تنازعہ ایٹمی جنگ بن سکتا ہے۔ پاکستان کو کیا خطرات ہیں؟ ویڈیو تجزیہ
فاروق ایچ نائیک کا تبصرہ
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو تمام کیسز میں بری کر دیا ہے، یوسف رضا گیلانی کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے، عدالت نے انصاف کیا جس پر ہم جج صاحب کے شکر گزار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، سہیل وڑائچ
قانون میں اصلاحات کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ ملک میں مقدمات کی پیروی نہیں ہورہی، قانون میں اصلاحات بہت ضروری ہوگئی ہیں، خصوصی عدالتوں کو ختم کردینا چاہیے، ملک میں کوئی خصوصی عدالت نہیں ہونی چاہیے، کیسز معمول کی عدالتوں میں چلنے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: نامزد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق پر حملے کی سازش کا انکشاف
خصوصی عدالتوں پر سوالات
فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ خصوصی عدالتیں ہائیکورٹس کے زمرے سے نکل جاتی ہیں اور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس صحیح فیصلے نہ کرنے والے ججز کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا، اس لیے وقت آگیا ہے کہ خصوصی عدالتوں کو ختم کیا جائے تاکہ ہر انسان کو انصاف مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
ماضی کی اہمیت
یاد رہے کہ 2014 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم پر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان میں کرپشن کے الزامات کے تحت ایف آئی اے کی جانب سے مقدمات درج کیے گئے تھے۔
فرد جرم عائد ہونا
29 مارچ 2018 کو یوسف رضا گیلانی سمیت 25 سے زائد ملزمان پر اس کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔








