ٹڈاپ میگا کرپشن: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی تمام مقدمات سے بری
اسلام آباد میں ٹڈاپ میگا کرپشن کیس کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹڈاپ میگا کرپشن کیسز میں عدالت نے چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا جبکہ مفرور ملزموں کے کیسز کو الگ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا ؟
عدالت کی سماعت کا معاملہ
نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کے مطابق وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ میں ٹڈاپ میگا کرپشن کیسز کی سماعت ہوئی، عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کو باقی 14 مقدمات میں بھی بری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 20کلو آٹے کا تھیلا 200روپے سستا ہو گیا
وکیل صفائی کا بیان
دوران سماعت وکیل صفائی فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ ان کے نام پر 50 لاکھ روپے کمیشن لیا گیا، تمام مقدمات میں یہی الزام ہے، یوسف رضا گیلانی بے گناہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وینا ملک کی انسٹاگرام بائیو تبدیل، خود کو شہریار کی بندی قرار دیدیا
عدالت کے ریمارکس
عدالت نے ریمارکس دیے کہ گیلانی صاحب کے اکاؤنٹ میں پیسے تو آئے نہیں، اگر ان کے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل ہوتے تو ہم ان سے نکلوا لیتے۔ کیس کے وعدہ معاف گواہ کو ملزم بنا دیا گیا، کچھ مقدمات کا ریکارڈ ہائیکورٹ میں موجود ہے، ہم ہائیکورٹ سے درخواست کریں گے کہ ریکارڈ بھیج دیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس آج طلب، سیاسی و سلامتی امور پر غور ہوگا
کچھ حقائق
ایف آئی اے نے یوسف رضا گیلانی پر ٹڈاپ میگا کرپشن کے 26 مقدمات درج کیے تھے، یوسف رضا گیلانی 12 مقدمات میں پہلے ہی بری ہو چکے ہیں جبکہ آج عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو مزید 14 مقدمات میں بری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید صاحب کو 15 مہینے کے پراسیس کے بعد سزا سنائی گئی، خواجہ محمد آصف
ٹڈاپ کرپشن کیسز کی شروعات
ٹڈاپ کرپشن کیسز کی تحقیقات کا آغاز 2009 میں ہوا تھا، ایف آئی اے نے مقدمات کا اندراج 2013 میں شروع کیا اور یوسف رضا گیلانی کو 2015 میں مقدمات کے حتمی چالان میں بطور ملزم نامزد کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کی ایپکس کمیٹی کا کرم میں تمام بنکرز اور بھاری اسلحہ ختم کرنے کا فیصلہ
میڈیا سے گفتگو
بعدازاں چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے، فاروق ایچ نائیک نے بہترین انداز میں کیس لڑا، اللہ کا شکر ہے کہ آج عدالت نے تمام کیسز میں باعزت بری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے اور قیمتی دھاتوں کے حصول کے لیے کچرے کے ڈھیروں پر جینے والی زندگیاں
قانون سازی پر بیان
انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کیسز بنائے میں ان کا اتحادی ہوں، ان کو چھوڑ بھی نہیں سکتا، مشکل وقت میں بھی ان کا ساتھ دیں گے، قانون سازی ہونی چاہیے، فیصلہ نہ ہو تو کیس ختم ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: جب بھی کراچی آتا ہوں یہاں کا انفرااسٹرکچر دیکھ کر انتہائی دکھ ہوتا ہے، وفاقی وزیر عبد العلیم خان
چیئرمین سینیٹ کا بیان
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں نے قانون سازی کرائی تھی کہ جو لوگ وعدہ معاف گواہ بن جاتے ہیں، اگر وہ کیس ثابت نہ کرسکیں تو انہیں بھی وہی سزا ہونی چاہیے جو ایک مجرم کو ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اب بہت ہوگیا، ملک میں سیاسی سیز فائر ہونا چاہئے: چیئرمین پی ٹی آئی کا مطالبہ
فاروق ایچ نائیک کا تبصرہ
فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو تمام کیسز میں بری کر دیا ہے، یوسف رضا گیلانی کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے، عدالت نے انصاف کیا جس پر ہم جج صاحب کے شکر گزار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سموگ گنز کے استعمال سے فضائی معیار بہتر بنانے کا کامیاب تجربہ، وزیراعلیٰ کی انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس کی ٹیم کو شاباش
قانون میں اصلاحات کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ ملک میں مقدمات کی پیروی نہیں ہورہی، قانون میں اصلاحات بہت ضروری ہوگئی ہیں، خصوصی عدالتوں کو ختم کردینا چاہیے، ملک میں کوئی خصوصی عدالت نہیں ہونی چاہیے، کیسز معمول کی عدالتوں میں چلنے چاہئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں، جرمن چانسلر
خصوصی عدالتوں پر سوالات
فاروق ایچ نائیک نے مزید کہا کہ خصوصی عدالتیں ہائیکورٹس کے زمرے سے نکل جاتی ہیں اور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس صحیح فیصلے نہ کرنے والے ججز کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا، اس لیے وقت آگیا ہے کہ خصوصی عدالتوں کو ختم کیا جائے تاکہ ہر انسان کو انصاف مل سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتے ہیں، خواجہ آصف
ماضی کی اہمیت
یاد رہے کہ 2014 میں مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم پر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان میں کرپشن کے الزامات کے تحت ایف آئی اے کی جانب سے مقدمات درج کیے گئے تھے۔
فرد جرم عائد ہونا
29 مارچ 2018 کو یوسف رضا گیلانی سمیت 25 سے زائد ملزمان پر اس کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔








