سیکرٹری داخلہ پنجاب کا پروبیشن اینڈ پیرول سروس ہیڈکوارٹرز کا دورہ، ڈی جی کمپلیکس کا افتتاح کیا
پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس ہیڈکوارٹر کا دورہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول سروس ہیڈکوارٹروں کا دورہ کیا اور نو تعمیر شدہ ڈائریکٹر جنرل کمپلیکس کا افتتاح کیا۔ یہ نیا کمپلیکس جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کے خلاف کارروائی پر شاہد آفریدی کا ردعمل
اجلاس کی صدارت
سیکرٹری داخلہ نے عمارت کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور محکمے کی کارکردگی اور مستقبل کے اہداف کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پروبیشن اینڈ پیرول سروس شاہد اقبال نے بریفنگ دی جس میں ایڈیشنل سیکرٹری پریزن عاصم رضا اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں بینکوں کے ڈپازٹس 3685 ارب روپے بڑھے گئے
کمیونٹی سروس ماڈل
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت پنجاب نے پروبیشنرز کے لیے کمیونٹی سروس ماڈل متعارف کروایا ہے جس کے تحت پنجاب بھر کے 45 ہزار سے زائد پروبیشنرز کو کمیونٹی سروس فراہم کی جائے گی۔ یہ پروبیشنرز ایسے حادثاتی مجرمان ہیں جن کی اصلاح کے لیے عدالت نے سزا ملتوی کر کے پروبیشن پر رہا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے بیرسٹر سیف کو اہم ٹاسک سونپ دیا
پروگریس اور تربیت
دو سالوں کے دوران 92,000 سے زائد پروبیشنرز کی تربیت کروائی گئی ہے۔ پاکستان کے 90 فیصد پروبیشنرز پنجاب میں ہیں جبکہ باقی تمام صوبوں میں 10 فیصد موجود ہیں۔ محکمہ مختلف تربیتوں کے ذریعے مجرمان کی بحالی کے اصلاحی پروگرام چلاتا ہے۔ پروبیشنرز کو ریسکیو 1122 کے ذریعے سی پی آر اور فرسٹ ایڈ کی تربیت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نشتر ہسپتال ملتان میں ڈائیلیسز کے 30 مریض ایڈز کا شکار ہو گئے
پروگرام اور سیشنز
درخت لگانے کی مہم باقاعدگی سے منعقد کی جاتی ہے جس میں پروبیشنرز شامل ہوتے ہیں۔ ٹیوٹا کے تعاون سے تکنیکی مہارت کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ مزید برآں، پروبیشنرز کی مذہبی تھراپی اور کیس مینجمنٹ سیشن اخلاقی اور سماجی اصلاح کو فروغ دیتے ہیں۔ مجرمانہ رویئے میں تبدیلی کے لیے انفرادی اور گروپ مشاورتی سیشن منعقد کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی حکومت کا فیصلہ کرکٹ بورڈ پر بھاری پڑ گیا، آن لائن گیمنگ بل کے بعد 358 کروڑ روپے کا اسپانسرشپ معاہدہ ختم کرنا پڑا۔
قانونی خواندگی اور خصوصی مدد
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فائر سیفٹی، ٹریفک آگاہی، اور آبادی کی بہبود کے سیشنز شہری احساس کو بہتر بناتے ہیں۔ قانونی خواندگی کے سیشن ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں۔ خواتین پروبیشنرز کو خصوصی مدد فراہم کی جاتی ہے۔ نویں قانون کے تحت عدالتی حکم ہی میں پروبیشنرز کی قابلیت کے مطابق کمیونٹی سروس متعین کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری
کمیونٹی سروس کے فوائد
سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اس موقع پر ہدایت کی کہ کمیونٹی سروس کے لیے پروبیشنرز کو متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تعلیم یافتہ پروبیشنرز سے ٹیچنگ جبکہ تکنیکی مہارت رکھنے والوں سے کام لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ہنجروال میں تشدد سے کمسن ملازمہ جاں بحق، وزیر اعلیٰ نے رپورٹ طلب کر لی
حکومت پنجاب کو بچت
سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ کمیونٹی سروس ماڈل کی کامیابی سے حکومت پنجاب کو سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہوگی۔ پروبیشن اینڈ پیرول سروس کریمنل جسٹس سسٹم کا اہم ستون ہے جسے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
تربیتی مواقع
ڈائریکٹر جنرل شاہد اقبال نے بتایا کہ پروبیشن اینڈ پیرول سروس افسران کی تربیت لمز اور نیشنل سکول آف پبلک پالیسی جیسے اداروں سے کروائی جا رہی ہے۔ افسران کے لیے عالمی معیار کی تربیت کے مواقع تلاش کئے جا رہے ہیں۔








