وادیٔ بولان کی سرنگیں دنیا بھر میں مشہور اورحیران کر دینے والی ہیں،جناتی قسم کا کوئی پہاڑ یکدم سامنے آن کھڑا ہوتا، جس سے منہ پھیرنا مشکل ہو جاتا
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 192
یہ بھی پڑھیں: ایک کی سڑک پر اور دوسرے کی پارٹی آفس میں فحش حرکات، بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے دو رہنماؤں کی غیراخلاقی ویڈیوز وائرل ہوگئیں۔
بولان پاس کی خصوصیات
بولان پاس کے اس علاقے کی اوسطاً بلندی سطح سمندر سے 3500 فٹ ہے۔ سبی اور کوئٹہ کے درمیان اس لائن پر مجموعی طور پر 350 پْل اور 18 سرنگیں تعمیر کی گئی تھیں۔ اس دوران ریل گاڑی اپنی پیچ دار پٹری کی بدولت کئی دفعہ دریائے بولان پار کرکے دوسری طرف آتی جاتی رہتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم کو جو پارٹی منظور کرے گی، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس کا نام مٹ جائے گا، مشتاق غنی
پٹری بچھانے میں مشکلات
یہاں پٹری بچھانا حقیقتاً بہت ہی دشوار کام تھا۔ بولان کے اس پہاڑی سلسلے میں ان گنت برساتی نالے ہیں جن پر پْل بنائے گئے ہیں۔ چونکہ شروع میں یہ پٹری دریا کے پاٹ کیساتھ ساتھ پکی زمین پر اس یقین کے ساتھ بچھائی گئی تھی کہ وہ خشک اور محفوظ جگہ پر ہے۔ لیکن ایسا ہوا نہیں، ایک بار شدید بارشیں ہوئیں اور یہ دریا بپھرا تو اپنے ساتھ پٹری کو بھی بہا کر لے گیا۔ ضروری مرمت کے بعد بھی کم از کم 2 دفعہ ایسا ہوا کہ پٹریاں بہہ جانے سے یہ راستہ بند ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے خوشخبری، اسمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں 40 فیصد تک نمایاں کمی
نئے اقدامات
اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ اب اس پٹری کیلیے نسبتاً محفوظ اور بلند جگہ تلاش کی جائے، اس وقت تک یہ پٹری ویسے بھی نیرو گیج یعنی 2 فٹ 6 انچ چوڑی تھی۔ اب ان حادثات کے بعد اس پٹری کو براڈ گیج میں بدلنے کا یہ ایک مناسب موقع بھی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ایمان ہے تو بغیر تلوار کے بھی لڑتا ہے، سپاہی
نئی براڈ گیج پٹری
غرض ایک بار پھر اس علاقے کا سروے ہوا اور پچھلے مقامات سے ذرا ہٹ کے کچھ بلندی پر نئی براڈ گیج پٹری بچھائی گئی جو آج تک قائم ہے اور ریل گاڑیاں اب اسی راستے پر چلتی ہیں۔ اب بھی راستے میں کئی جگہ متروک اور پرانی نیرو گیج کی پٹریوں کے علاوہ اجاڑ سرنگوں اور ٹوٹے پھوٹے پلوں کے ستون پرانے وقتوں کی کہانیاں سناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان: وادی داریل میں شدید بارش کے بعد سیلاب، گھروں، فصلوں کو نقصان
وادیِ بولان کی سرنگیں
وادیئ بولان کی سرنگیں دنیا بھر میں اپنی خوبصورتی اور پر اسراریت کے لیے بہت مشہور اور حیران کن ہیں۔ یہ ساری پٹری چونکہ خشک اور پتھریلے پہاڑوں کے بیچ میں سے نکالی گئی تھی، اس لیے جہاں کہیں ممکن ہوتا وہ ان پہاڑیوں سے بچ بچا کر اور تھوڑا خمیدہ ہو کر اس کو نکال کر لے جاتے لیکن اکثر ایسا ہوتا تھا کہ جناتی قسم کا کوئی پہاڑ یکدم سامنے آن کھڑا ہوتا، جس سے منہ پھیرنا مشکل ہو جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، شادی میں رقص کی محفل، دولہا اور خواجہ سراؤں سمیت 32 ملزمان گرفتار، بارات منسوخ
سرنگیں کھودنے کی تجربات
ایسے میں ایک ہی صورت رہ جاتی تھی کہ اس پہاڑ کے اندر سے سرنگ نکال کر پٹری کو اس میں سے گزار دیا جائے۔ ظاہر ہے ان دنوں میں جب یہ پٹری بچھائی جا رہی تھی، سرنگ کھودنا کوئی اتنا آسان کام بھی نہ تھا۔ آگ اْگلتے سورج تلے سیکڑوں ہزاروں کی تعداد میں مزدور، خچر اور اونٹ وغیرہ اس کام پر جْت جاتے اور کچھ انگریز انجینئراور مقامی نگراں ان سے یہ کام کرواتے اور سرنگوں کو طے شدہ مدت میں مکمل کرواتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: گمنام ارب پتی نے اپنی ساری جائیداد معروف فٹ بالر نیمار جونیئر کے نام کردی۔
ڈائنامائٹ کا استعمال
1867ء میں الفریڈ نوبل نے ڈائنامائٹ ایجاد کر لیا تھا جو اب دنیا بھر میں دھماکے سے چٹانیں توڑنے کے کام آرہا تھا۔ لہٰذا جہاں ضروری سمجھا جاتا ڈائنامائٹ کو بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








