بابوسر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں کئی سیاح بہہ کر لاپتا، تین افراد جاں بحق
بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں سیاح لاپتا
اسکردو(ڈیلی پاکستان آن لائن )چلاس میں سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پر متعدد سیاح سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتا ہوگئے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی وزیر اعظم کا حماس کے غزہ چیف محمد سنوار کی شہادت کا دعویٰ
حادثے کا سبب
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق بابو سر ٹاپ پر فلیش فلڈ کے باعث سیلابی ریلہ آیا جس میں بہہ کر متعدد سیاح لاپتا ہوگئے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے جب کہ مقامی لوگوں نے بھی سیاحوں کو ریسکیو کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپارکو نے شعبان کی چاند کی پیشگوئی کر دی
حکام کی جانب سے معلومات
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان نے بتایا کہ بابوسر سے نیچے تھک کے مقام پر کلاوڈ برسٹ ہوا ہے، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بابو سر روڈ بند ہوگئی ہے جب کہ 7 سے 8 کلو میٹر روڈ مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے الیکٹرک وہیکلز پالیسی بنالی، زبردست پیشکش کر دی
لاشوں اور زخمیوں کی صورتحال
ڈی سی کے مطابق 3 افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں اور ایک معمر شخص شدید زخمی حالت میں ملا ہے جسے اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ 10 سے 15 گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں جن میں کوسٹرز بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فلم ’دھریندھر‘ کے اداکار ندیم خان گھریلو ملازمہ سے زیادتی کے الزام میں گرفتار
ریسکیو اقدامات
ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ قدرتی آفت سے بجلی اور فائبر آپٹک لائن متاثر ہوئی جس کے باعث رابطوں میں دشواری کا سامنا ہے، سیلاب متاثرہ علاقے میں مشینری پہنچا رہے ہیں، کچھ علاقوں میں مشینری پہنچ چکی ہے، ناران سے بھی بابو سر روڈ کو کھولنے کی کوشش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ سر جھکائے منہ لٹکائے چلے گئے، شکوہ کیا کہ آپ کی وجہ سے شرمندگی اٹھانا پڑی، انگور کھٹے تھے، حماقت تھی مگر سچی، سیکر ٹیریٹ بہترین تربیت گاہ ہے۔
زخمیوں کی حالت
ڈی سی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقے میں مشینری پہنچا رہے ہیں، کچھ علاقوں میں مشینری پہنچ چکی ہے، زخمیوں کو ایمبولینسز کے ذریعے آر ایچ کیو منتقل کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات کی تفصیل جاری، کتنے افراد لقمۂ اجل بنے؟ جانیے
امدادی کارروائیاں
انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفات کے ردعمل میں جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کررہے ہیں، ابھی تک 3 لاشیں ملی ہیں، اب یہ کنفرم کرنا باقی ہے کہ یہ ڈیڈ باڈیز سیاحوں کی ہیں یا مقامی افراد کی، ہم متاثرہ افراد کو امدادی سامان کھانا اور پانی وغیرہ فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ قائم، پہلی بار 100 انڈیکس 95 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا
سرچ آپریشن کا آغاز
اس حوالے سے ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ شاہراہ بابوسر میں صبح سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فلم ’دھریندر‘ میں مرکزی کردار نبھانے والے ’رنویر سنگھ‘ کا تعلق بھی کراچی سے نکل آیا
نقصان کی تفصیلات
ترجمان نے کہا کہ سیلاب سے گرلز اسکول، 2 ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور شاہراہ بابوسر سے متصل 50 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہوئے، 8 کلومیٹر سڑک شدید متاثرہ اور 15 مقامات پر روڈ بلاک ہے جب کہ شاہراہ بابوسر پر 4 رابطہ پل بھی تباہ ہوئے ہیں۔
سیاحوں کی بحالی کے اقدامات
ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق سیکڑوں پھنسے سیاحوں کو چلاس شہر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کر کے چلاس پہنچا دیا گیا ہے، بابوسر میں مواصلاتی نظام نہ ہونے سے سیاحوں کا رابطہ گھروں سے منقطع ہے تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز مسافروں اور سیاحوں کیلئے مفت کھول دیے ہیں۔








