بابوسر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں کئی سیاح بہہ کر لاپتا، تین افراد جاں بحق
بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں سیاح لاپتا
اسکردو(ڈیلی پاکستان آن لائن )چلاس میں سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ پر متعدد سیاح سیلابی ریلے میں بہہ کر لاپتا ہوگئے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید کی وزیراعلی ہاؤس پشاور میں موجودگی کے حکومتی دعوے پر خیبرپختونخوا حکومت کا ردعمل بھی آگیا
حادثے کا سبب
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق بابو سر ٹاپ پر فلیش فلڈ کے باعث سیلابی ریلہ آیا جس میں بہہ کر متعدد سیاح لاپتا ہوگئے جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے جب کہ مقامی لوگوں نے بھی سیاحوں کو ریسکیو کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکار یاسر حسین نے پاکستان میں آڈلٹ انٹرٹینمنٹ کی حمایت کردی اور حکومت کو بھی اس سے قانونی طور پر پیسے کمانے کا مشورہ دے دیا
حکام کی جانب سے معلومات
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان نے بتایا کہ بابوسر سے نیچے تھک کے مقام پر کلاوڈ برسٹ ہوا ہے، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بابو سر روڈ بند ہوگئی ہے جب کہ 7 سے 8 کلو میٹر روڈ مکمل طور پر تباہ ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری کے بیان پر سندھ حکومت کا رد عمل بھی سامنے آگیا
لاشوں اور زخمیوں کی صورتحال
ڈی سی کے مطابق 3 افراد کی لاشیں بھی ملی ہیں اور ایک معمر شخص شدید زخمی حالت میں ملا ہے جسے اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ 10 سے 15 گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں جن میں کوسٹرز بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مری میں برفباری کا سلسلہ تھم گیا، جلد راستے کھلنے کا امکان
ریسکیو اقدامات
ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ قدرتی آفت سے بجلی اور فائبر آپٹک لائن متاثر ہوئی جس کے باعث رابطوں میں دشواری کا سامنا ہے، سیلاب متاثرہ علاقے میں مشینری پہنچا رہے ہیں، کچھ علاقوں میں مشینری پہنچ چکی ہے، ناران سے بھی بابو سر روڈ کو کھولنے کی کوشش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے ہاتھوں رافیل گرنے کے بعد بھارت نے اپنا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ بنانے کی تیاری پکڑ لی
زخمیوں کی حالت
ڈی سی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقے میں مشینری پہنچا رہے ہیں، کچھ علاقوں میں مشینری پہنچ چکی ہے، زخمیوں کو ایمبولینسز کے ذریعے آر ایچ کیو منتقل کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شارجہ اکنامک ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین حمد علی عبد اللہ المحمود سے خاور حسین کی ملاقات، تعاون کا یقین دلادیا
امدادی کارروائیاں
انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفات کے ردعمل میں جو کچھ کرسکتے ہیں وہ کررہے ہیں، ابھی تک 3 لاشیں ملی ہیں، اب یہ کنفرم کرنا باقی ہے کہ یہ ڈیڈ باڈیز سیاحوں کی ہیں یا مقامی افراد کی، ہم متاثرہ افراد کو امدادی سامان کھانا اور پانی وغیرہ فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی 32 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور
سرچ آپریشن کا آغاز
اس حوالے سے ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ شاہراہ بابوسر میں صبح سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے اور لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ثنا یوسف کے قاتل کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کتنی سی سی ٹی وی ویڈیوز جمع کیں اور کتنی فون کالز کا تجزیہ کیا؟ آئی جی اسلام آباد کے اہم انکشافات
نقصان کی تفصیلات
ترجمان نے کہا کہ سیلاب سے گرلز اسکول، 2 ہوٹل، پولیس چوکی، پولیس شیلٹر اور شاہراہ بابوسر سے متصل 50 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہوئے، 8 کلومیٹر سڑک شدید متاثرہ اور 15 مقامات پر روڈ بلاک ہے جب کہ شاہراہ بابوسر پر 4 رابطہ پل بھی تباہ ہوئے ہیں۔
سیاحوں کی بحالی کے اقدامات
ترجمان گلگت بلتستان حکومت کے مطابق سیکڑوں پھنسے سیاحوں کو چلاس شہر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے اور اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کر کے چلاس پہنچا دیا گیا ہے، بابوسر میں مواصلاتی نظام نہ ہونے سے سیاحوں کا رابطہ گھروں سے منقطع ہے تاہم چلاس کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز مسافروں اور سیاحوں کیلئے مفت کھول دیے ہیں۔








