ملازم پر فائرنگ کا کیس، موسیٰ مانیکا ضمانت پر رہا
پاکپتن میں فائرنگ کیس کی سماعت
میاں خاور فرید مانیکا کے ڈیرے پر فائرنگ کیس کی سماعت کے دوران، مدعی عدالت میں ملزم موسیٰ مانیکا کو شناخت نہ کر سکا۔ مدعی نے بیان دیا کہ موسیٰ مانیکا نے گولی نہیں چلائی، کیونکہ وہ نقاب پوش تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مانسہرہ پولیس نے ناران میں ہائیکنگ کے دوران راستہ بھٹکنے والی جرمن سیاح خاتون کو بحفاظت ڈھونڈ لیا
مدعی کا نئی بیان حلفی
سما ٹی وی کے مطابق، مدعی نے عدالت میں بیان حلفی جمع کروا دیا ہے جس میں اس نے اعتراف کیا ہے کہ موسیٰ مانیکا کا نام غلط فہمی کی بنیاد پر لیا گیا۔ مدعی نے وضاحت دی کہ موسیٰ مانیکا اصل ملزم نہیں ہے اور عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کی ضمانت لے یا بری کر دے، وہ اس پر اعتراض نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امارات کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والے مذموم سازش کر رہے ہیں، یہاں سب کچھ نارمل ہے، ڈاکٹر محمد اکرم چودھری
عدالت کا فیصلہ
سماعت کے بعد، عدالت نے ملزم موسیٰ مانیکا کی ضمانت منظور کر لی اور اسے ایک لاکھ روپے کا مچلکہ جمع کروانے کا حکم جاری کیا۔
گرفتاری اور مقدمہ
یاد رہے کہ پولیس نے موسیٰ مانیکا کو ملازم پر گولی چلانے کے الزام میں 17 جولائی کو گرفتار کیا تھا۔ اس پر تھانہ صدر میں اقدام قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔








