حمیرا کا فلیٹ مالک سے جھگڑا کب اور کیوں شروع ہوا، واجبات کتنے تھے؟ دستاویزات منظر عام پر
حمیرا اصغر کا معاملہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) 8 جولائی کو کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 کے فلیٹ سے مردہ حالت پائی جانے والی پاکستانی اداکارہ حمیرا اصغر کے خلاف مالک مکان کی جانب سے کیے گئے کیس کی تفصیلات منظر عام پر آ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ 9 مئی: حلیم عادل، خرم شیر زمان ودیگر پر فرد جرم عائد
کرائے کا تنازع
نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق اداکارہ حمیرا اصغر اور مالک مکان کے درمیان کرائے کا تنازع 2019 سے جاری تھا۔ حمیرا اصغر اور مکان مالک کے درمیان کرائے کا معاہدہ 20 دسمبر 2018 کو ہوا تھا، معاہدہ مکمل ہونے پر مکان مالک نے حمیرا اصغر سے فلیٹ خالی کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: حسن ابدال میں گاڑی برساتی نالے میں گر گئی، 5 افراد کو زندہ نکال لیا گیا، 5 لاپتہ
معاہدے کی خلاف ورزی
اس کا دعویٰ تھا کہ حمیرا اصغر نے معاہدے کے مطابق سالانہ 10 فیصد اضافی رقم ادا نہیں کی جس پر 3 جون 2021 کو حمیرا اصغر کو فلیٹ خالی کرنے کا پہلا نوٹس بھیجا گیا اور 17 جون کو دوسرا نوٹس بھیجا گیا جبکہ 2019 اور 2020 کے دوران حمیرا اصغر نے 40 ہزار روپے ادا نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیم اور کیریئر ایکسپو، فیوچر فیسٹ کا انعقاد 3 اور 4 نومبر 2024 کو پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں ہو گا۔
واجب الادا رقم
مالک مکان کے دعوے کے مطابق حمیرا اصغر پر 2021 میں یہ رقم بڑھ کر 92400 ہوگئی جبکہ 2024 میں حمیرا اصغر پر واجب الادا رقم 5 لاکھ 35 ہزار 84 روپے ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: بزدار دور کی کرپشن پر تحقیقات کرنے والے افسر کے خلاف ہی کارروائی شروع کر دی گئی
عدالتی کارروائی
حمیرا اصغر نے متعدد عدالتی نوٹس کے باوجود جواب داخل نہیں کیا تھا، 21 ستمبر 2023 کو عدالت نے فلیٹ خالی کرنے کیلئے فیصلہ دیا اور مکان مالک کی درخواست پر 26 مارچ 2025 کو عملدرآمد کا حکم جاری کیا تھا۔
واقعہ کی تفصیل
مزید برآں 8 جولائی کو مالک مکان گھر خالی پہنچا تو حمیرا اصغر کی لاش فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی۔








