بی جے پی میں قیادت کا بحران، نائب صدر کے استعفے سے پارلیمانی کارروائی متاثر، نریندر مودی کی مشکلات بڑھ گئیں
قیادت کا بحران بی جے پی میں
لاہور (طیبہ بخاری سے) بی جے پی میں قیادت کا بحران، نائب صدر کے استعفے سے پارلیمانی کارروائی متاثر، نریندر مودی کی مشکلات بڑھ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: میرا ایمان ہے سچ کی طاقت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا،گلے میں آیت الکرسی پہن رکھی تھی، ناجانے کیا خیال آ یا آیت الکرسی پر ہاتھ رکھا اور حلف دیتے کہا۔
نائب صدر کا اچانک استعفیٰ
تفصیلات کے مطابق نائب صدر جگدیپ دھنکھر کا جاری پارلیمانی اجلاس کے دوران اچانک استعفیٰ مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا بن کر سامنے آیا ہے، کیونکہ وہ راجیہ سبھا (ایوان بالا) کے بھی سربراہ تھے۔ ان کے استعفے نے نہ صرف پارلیمانی کارروائی کو متاثر کیا ہے بلکہ حکومت کی داخلی کمزوری کو بھی آشکار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں سینکڑوں اساتذہ کے غیر حاضر ہونے کا انکشاف
سیاست میں حساس سوالات
بھارتی میڈیا اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ استعفیٰ دراصل ’’آپریشن سندور‘‘ سے جڑے حساس سوالات کو دبانے کے لیے لیا گیا، کیونکہ جگدیپ دھنکھر نے اپوزیشن کو اس آپریشن پر پارلیمان میں کھلی بحث کی یقین دہانی کرائی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سپریم کورٹ کا وینزویلا کے تارکین کی ملک بدری عارضی روکنے کا حکم
مودی سے استعفے کا مطالبہ
اس غیر معمولی صورتحال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سبرامنیم سوامی اور راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ کسی اپوزیشن جماعت سے نہیں بلکہ خود حکمراں جماعت اور اس کی نظریاتی تنظیم کے اندر سے آیا ہے، جو مودی کی قیادت پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کا واضح اشارہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا میڈیکل ریکارڈ چیف جسٹس کو یقین دہانی کے باوجود خاندان کو نہیں دیا گیا، ذاتی معالجین کو معائنے کی اجازت نہیں ، یہ انسانیت سوز سلوک ہے، سلمان اکرم راجا
ریٹائرمنٹ کی آوازیں
آر ایس ایس کی پالیسی ہے کہ کوئی بھی شخص 75 سال کی عمر کے بعد سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا، اور مودی ستمبر 2025 میں 75 برس کے ہو جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر سے ریٹائرمنٹ کی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں اور قیادت کا بحران واضح ہوتا جا رہا ہے۔ مودی کی موجودگی پارٹی کے لیے بوجھ بنتی جا رہی ہے، اور ان کے خلاف ناراضی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید سموگ اور دھند کے باعث موٹر وے بند
اپوزیشن کے مطالبات
دوسری جانب اپوزیشن ’’آپریشن سندور‘‘ اور ’’پہلگام انکوائری‘‘ جیسے حساس معاملات پر پارلیمان میں جواب طلب کر رہی ہے۔ اس دوران مودی کا بیرونِ ملک مجوزہ دورۂ تنزانیہ اور برطانیہ مزید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ اپوزیشن سوال کر رہی ہے کہ جب ملک کے اندر اتنے سنجیدہ سوالات کھڑے ہو چکے ہیں، تو وزیر اعظم ملک سے باہر دوروں پر کیوں جا رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ: عوام کا پاک فوج سے اظہار یکجہتی، پھول نچھاور کئے
سیاست میں تبدیلی کا امکان
دلچسپ طور پر، بھارتی حکومت نے جس ’’آپریشن سندور‘‘ کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی، وہ خود اب اسی نوعیت کے سیاسی بحران کا شکار ہو چکی ہے اور اب خود بھارت میں مودی حکومت کو ممکنہ تبدیلی کا سامنا ہے۔
نئے سیاسی منظرنامے کی جانب اشارہ
بی جے پی اور آر ایس ایس کے اندر سے اٹھنے والی بغاوت اور اپوزیشن کے سوالات ایک نئے سیاسی منظرنامے کی جانب اشارہ کر رہے ہیں ایک ایسا منظرنامہ جہاں ’’وشو گرو‘‘ کا دعویٰ کرنے والے مودی آج اپنی ہی پارٹی کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔








