کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان متنازع سرحدی علاقے میں شدید جھڑپیں، متعدد شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جھڑپیں
بنکاک (ڈیلی پاکستان آن لائن) تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی افواج کے درمیان مشترکہ سرحد کے متنازع علاقے میں جھڑپوں کے دوران شہریوں سمیت کئی افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تھائی لینڈ نے ایف 16 طیارے سے کمبوڈیا کے فوجی اہداف پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ کمبوڈیا نے جواب میں میزائل حملے کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے بھارت کی کیانی اور منڈل سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کا جواب کیسے دیا۔۔۔؟ ویڈیو دیکھیں
جھڑپوں کی وجوہات
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، تھائی فوج کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا کی افواج نے پہلے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی، جب کہ کمبوڈیا کی وزارت دفاع نے کہا کہ ان کی افواج نے دفاع میں کارروائی کی، کیوں کہ وہ پہلے حملے کی زد میں آئیں۔ اس وقت سرحد کے کئی مقامات پر لڑائی جاری ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان ایک طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع کا حصہ ہے۔ یہ تنازع ایک بار پھر مئی میں شدت اختیار کر گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت بین الصوبائی رابطہ کا انقلابی اقدام، اسلام آباد کے سرکاری سکولوں کے لیے کھیلوں کا بڑا تحفہ
سفارتی اقدامات
تھائی لینڈ نے کمبوڈیا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے، جبکہ کمبوڈیا نے تھائی لینڈ سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا کر تمام تھائی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ تھائی لینڈ کی وزارت دفاع کے ترجمان سوراسنت کونگسیری نے بتایا ہے کہ سرحد کے کم از کم 6 علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایکس پوسٹس غیرقانونی قرار دینے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر
مقامی آبادی کی حالت
لڑائی اُس وقت پھیلی، جب یہ سب سے پہلے قدیم کھمر مندر تا موآن تھوم کے قریب شروع ہوئی، جو تھائی لینڈ کے صوبہ سورن اور کمبوڈیا کے صوبہ اودار مینچی کے درمیان متنازع علاقے میں واقع ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی باشندے، جن میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، کنکریٹ سے بنائے گئے بم پروف شیلٹرز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تھائی لینڈ کے وزیر صحت کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر کی برطرف کردہ امریکی جنرل جو چین پر جوہری حملے کی دھمکی دے چکے تھے
ہلاکتوں کی تعداد
سمساک تھیپسوٹھن کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے حالیہ واقعات میں 11 تھائی عام شہری اور ایک فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزیر صحت نے بتایا کہ کمبوڈیا کی کارروائیاں، جن میں ایک ہسپتال پر حملہ بھی شامل ہے، جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سنجے منجریکر نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی ‘نو ہینڈ شیک’ پالیسی کو احمقانہ قرار دے دیا
فوجی کاروائیاں
تھائی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ کمبوڈیا کی جانب سے ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ 6 شہری ہلاک اور 2 زخمی ہوئے ہیں، جب کہ کنتھرالک ضلع کے علاقے پر حملہ کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں مزید ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر بجٹ: ہیلتھ کارڈ سہولت بحال، تعلیم کیلئے 2 ارب 40 کروڑ روپے مختص
جواب میں فوجی کارروائیاں
کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن منیت نے اس فضائی حملے کو مسلح جارحیت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کمبوڈیا ہمیشہ مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے، لیکن اس مسئلے کا جواب طاقت کے ذریعے دینا ہی واحد راستہ ہے۔
اقوام متحدہ سے مداخلت کی درخواست
کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہُن مانیت نے ایک خط میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ کی حالیہ جارحیت نے خطے کے امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، اس لیے فوری اجلاس بلا کر اس جارحیت کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔








