مار پیٹ سے کبھی کسی کو ہدایت ملی ہے نہ ہی درست راستہ، مولانا طارق جمیل
مولانا طارق جمیل کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کہا کہ سوات کے مدرسے قاری نے جس طرح بچے پر تشدد کیا نہ یہ دین کا طریقہ ہے اور نہ ہی ہمارے نبی ﷺ نے اس طرح کی تعلیم دی ہے۔ ایک دن بچے نے چھٹی کرلی، اسے پیار سے بھی سمجھایا جا سکتا تھا، لیکن اسے اتنا مارا پیٹا گیا کہ وہ مر گیا۔ اس کے والدین پر کیا گزری ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: الخدمت فاؤنڈیشن نے دیوالی کی مناسبت سے 1400 ہندو خاندانوں میں تحائف تقسیم کر دیے
تشویش کا اظہار
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں مولانا طارق جمیل نے مزید کہا کہ بچے کی کمر کی تصویر دیکھ کر بہت صدمہ ہوا۔ معصوم بچے کی میت کی تصویر بھی دیکھی اور نامراد قاری کی بھی میں نے تصویر دیکھی ہے۔ ہمارا ستم یہ ہے کہ ایک بچہ حفظ کرکے فارغ ہوتا ہے، اسے بغیر سمجھائے اور تربیت کے حفظ کی جماعت میں بٹھا دیتے ہیں۔ سوٹی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے، وہ جدھر چاہتا ہے، اسے سفاکانہ طریقے سے استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاک کا 13 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کی کڑی نگرانی کا فیصلہ
والدین کی بے خبری
انہوں نے کہا کہ والدین بھی اتنے نادان ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ بس حافظ بن جائے، چاہے اس کی کھال اتار دی جائے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ حافظ تو بن جائے گا مگر صحیح مسلمان نہیں بن سکے گا، کیونکہ مار پیٹ سے کبھی کسی کو ہدایت نہیں ملتی، کسی کو راستہ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ کا زلفی بخاری کی جائیداد نیلامی کا عمل روکنے کا حکم
واقعہ کی تفصیلات
واضح رہے کہ 21 جولائی کو سوات کے مدرسے میں استاد کے تشدد سے بچہ جاں بحق ہوگیا تھا۔ 14 سالہ مقتول فرحان کے چچا کے مطابق، مدرسے کے مہتمم کا بیٹا بچے سے ناجائز مطالبات کرتا تھا۔ خوازہ خیلہ اسپتال میں 12 سالہ فرحان کی تشدد زدہ لاش لائی گئی تھی۔ مقتول کے چچا صدر ایاز کی مدعیت میں مدرسے کے مہتمم قاری محمد عمر، اُس کے بیٹے احسان اللّٰہ، ناظم مدرسہ عبد اللّٰہ، اور بخت امین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
تشدد کا واقعہ اور اس کے اثرات
سوات مدرسے میں بچے کو تشدد سے مار دیا گیا، والدین پر کیا گزری ہوگی، مولانا طارق جمیل








