احتساب کے بغیر مختلف ممالک کے علاقوں پر قبضے جاری ہیں، انسانی بحران ہر گزرتے لمحے بڑھ رہا ہے :اسحاق ڈار
اسلامی کانفرنس تنظیم کی اہمیت
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ احتساب کے بغیر مختلف ممالک کے علاقوں پر قبضے جاری ہیں، انسانی بحران ہر گزرتے لمحے بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات اور توسیع میں او آئی سی کے رکن ممالک مناسب نمائندگی پر زور دیتے رہے ہیں۔ پاکستان او آئی سی کی شراکت داری کا حد درجے احترام کرتا ہے۔ پاکستان کو امید ہے کہ یہ ڈائیلاگ نئی سوچ کو اجاگر اور نیا عزم لائے گا تاکہ جرأت مندانہ اقدام کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا شہزادہ محمدبن سلمان سے ہنگامی رابطہ، سعودی حمایت کا اعادہ
اقوام متحدہ اور او آئی سی کا تعاون
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یہ بات اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس تنظیم کے باہمی تعاون سے متعلق سلامتی کونسل میں بریفنگ سے خطاب میں کہی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے عرصے میں پاکستان کا یہ دوسرا اور آخری سگنیچر ایونٹ تھا۔ اسحاق ڈار نے اس موضوع کو پاکستان کی ملٹی لیٹرل ازم پالیسی اور تقریباً 2 ارب لوگوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کی امنگوں کا ترجمان قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایکس اکاؤنٹ کون ہینڈل کرتا ہے؟ عمران خان کا نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو معلومات دینے سے انکار
عالمی امن کی صورتحال
’’جنگ‘‘ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ بریفنگ ایسے وقت ہورہی ہے جب گلوبل ڈس آرڈر گہرا تر ہورہا ہے، سزا کے خوف کے بغیر جنگیں مسلط کی جارہی ہیں، احتساب کے بغیر مختلف ممالک کے علاقوں پر قبضے جاری ہیں، انسانی بحران ہر گزرتے لمحے بڑھ رہا ہے اور نفرت پر مبنی نظریات معمول بن رہے ہیں۔ اس صورتحال میں باہمی رابطوں اور اصولی اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اس تخریب کا شکار دنیا میں او آئی سی کلیدی سیاسی کردار رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہڑپہ: کارگو ٹرین کا انجن الٹ گیا، بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
او آئی سی کا کردار
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم کے طور پر او آئی سی نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی کوششوں میں پل کا کردار ادا کیا ہے اور سیاسی ترجیحات کو ہیومینیٹرین ترجیحات سے جوڑا ہے۔ آذادی اور ریاست کے حق سے متعلق فلسطینی عوام کا معاملہ ہو، جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی وکالت ہو یا دیگر مسائل، او آئی سی ہمیشہ اقوام متحدہ کے لیے ناگزیر مذاکرات کار رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداروں کے لیے موسم سرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری
مؤثر تعاون کی ضرورت
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ زمینی حقائق پر مبنی پیشگی خبرداری کا نظام اور اعتماد پر مبنی مشترکہ ثالثی فریم ورک ہونا چاہیے جو ٹھوس نتائج مرتب کرے۔ سیاسی تغیرات میں ثالثی، ہیومینیٹرین ہنگامی صورتحال اور ترقی کے امور میں اقوام متحدہ اور او آئی سی کے روابط میں اضافہ ہورہا ہے، تاہم ادارہ جاتی تعلق میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اوگرا نے ایل پی جی کی قیمتوں میں 2روپے 52 پیسے فی کلو کمی کر دی
اسلاموفوبیا کا مقابلہ
15 مارچ کو اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے دن منانے سے متعلق پاکستان کے انیشی ایٹو کو اسحاق ڈار نے سراہا اور کہا کہ عالمی سطح پر احترام، شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے مندوب کے کردار کو مزید ادارہ جاتی بنانا چاہیے۔ او آئی سی عالمی امن اور استحکام کی کاوشوں میں اہم شراکت دار رہی ہے۔
خلاصہ اور مستقبل
تقریر کے اختتام پر نائب وزیراعظم نے صدارتی بیان پر شرکاء کی جانب سے اتفاق پر پیشگی اظہار تشکر کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان شراکت داری اور تعاون مزید مستحکم ہوگا۔







