احتساب کے بغیر مختلف ممالک کے علاقوں پر قبضے جاری ہیں، انسانی بحران ہر گزرتے لمحے بڑھ رہا ہے :اسحاق ڈار
اسلامی کانفرنس تنظیم کی اہمیت
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ احتساب کے بغیر مختلف ممالک کے علاقوں پر قبضے جاری ہیں، انسانی بحران ہر گزرتے لمحے بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اصلاحات اور توسیع میں او آئی سی کے رکن ممالک مناسب نمائندگی پر زور دیتے رہے ہیں۔ پاکستان او آئی سی کی شراکت داری کا حد درجے احترام کرتا ہے۔ پاکستان کو امید ہے کہ یہ ڈائیلاگ نئی سوچ کو اجاگر اور نیا عزم لائے گا تاکہ جرأت مندانہ اقدام کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: انٹراپارٹی الیکشن نظرثانی کیس: پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں لارجربینچ تشکیل دینے کی درخواست
اقوام متحدہ اور او آئی سی کا تعاون
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یہ بات اقوام متحدہ اور اسلامی کانفرنس تنظیم کے باہمی تعاون سے متعلق سلامتی کونسل میں بریفنگ سے خطاب میں کہی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کے عرصے میں پاکستان کا یہ دوسرا اور آخری سگنیچر ایونٹ تھا۔ اسحاق ڈار نے اس موضوع کو پاکستان کی ملٹی لیٹرل ازم پالیسی اور تقریباً 2 ارب لوگوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کی امنگوں کا ترجمان قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ای چالانز کا ہدف 95کروڑسے بڑھا کر ایک ارب 47کروڑ روپے مقررکردیا
عالمی امن کی صورتحال
’’جنگ‘‘ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ بریفنگ ایسے وقت ہورہی ہے جب گلوبل ڈس آرڈر گہرا تر ہورہا ہے، سزا کے خوف کے بغیر جنگیں مسلط کی جارہی ہیں، احتساب کے بغیر مختلف ممالک کے علاقوں پر قبضے جاری ہیں، انسانی بحران ہر گزرتے لمحے بڑھ رہا ہے اور نفرت پر مبنی نظریات معمول بن رہے ہیں۔ اس صورتحال میں باہمی رابطوں اور اصولی اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اس تخریب کا شکار دنیا میں او آئی سی کلیدی سیاسی کردار رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ: ڈسکہ روڈ پر تیز رفتار کار کھڑی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی، 5 افراد جاں بحق
او آئی سی کا کردار
نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بعد دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم کے طور پر او آئی سی نے ہمیشہ عالمی اور علاقائی کوششوں میں پل کا کردار ادا کیا ہے اور سیاسی ترجیحات کو ہیومینیٹرین ترجیحات سے جوڑا ہے۔ آذادی اور ریاست کے حق سے متعلق فلسطینی عوام کا معاملہ ہو، جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی وکالت ہو یا دیگر مسائل، او آئی سی ہمیشہ اقوام متحدہ کے لیے ناگزیر مذاکرات کار رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی صدر کا اقوام عالم سے تاریخی سانحات دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کا مطالبہ
مؤثر تعاون کی ضرورت
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ زمینی حقائق پر مبنی پیشگی خبرداری کا نظام اور اعتماد پر مبنی مشترکہ ثالثی فریم ورک ہونا چاہیے جو ٹھوس نتائج مرتب کرے۔ سیاسی تغیرات میں ثالثی، ہیومینیٹرین ہنگامی صورتحال اور ترقی کے امور میں اقوام متحدہ اور او آئی سی کے روابط میں اضافہ ہورہا ہے، تاہم ادارہ جاتی تعلق میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی کو قتل کرنے کے الزام میں 11 افراد گرفتار
اسلاموفوبیا کا مقابلہ
15 مارچ کو اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرنے کے دن منانے سے متعلق پاکستان کے انیشی ایٹو کو اسحاق ڈار نے سراہا اور کہا کہ عالمی سطح پر احترام، شمولیت اور بین المذاہب ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے مندوب کے کردار کو مزید ادارہ جاتی بنانا چاہیے۔ او آئی سی عالمی امن اور استحکام کی کاوشوں میں اہم شراکت دار رہی ہے۔
خلاصہ اور مستقبل
تقریر کے اختتام پر نائب وزیراعظم نے صدارتی بیان پر شرکاء کی جانب سے اتفاق پر پیشگی اظہار تشکر کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان شراکت داری اور تعاون مزید مستحکم ہوگا۔








