علماء نے بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ناگزیر قرار دے دیا
اسلامی اجلاس میں والدین کی ذمہ داری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) علمائے کرائم نے ماں اور بچے کی صحت کیلئے بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ ناگزیر قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 12 اپریل کو لاہور میں عام تعطیل کا اعلان،نوٹیفکیشن جاری
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل اور پاپولیشن کونسل کے اشتراک سے "اسلام میں تصور میزان و احسان، وسائل وآبادی میں توازن، ہماری بقا، ہمارا مستقبل" کے موضوع پر جید علما کے ساتھ ایک روزہ مشاورتی اجلاس کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: خاتون کو قتل کرکے لاش سمندر میں پھینکنے والا مفرور ملزم گرفتار
پاپولیشن کونسل کی نمائندگی
اجلاس میں سینئر ڈائریکٹر پروگرامز اور ریسرچ پاپولیشن کونسل ڈاکٹر علی محمد میر نے اپنے افتتاحیہ کلمات میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ماضی قریب اور بعید میں حکومتی اقدامات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں جنوبی افریقا نے بھارت کو 51 رنز سے ہرا دیا
اسلامی تعلیمات اور صحت
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر کمیونیکیشن پاپولیشن کونسل علی مظہر نے اسلام میں تصور میزان و احسان اور متوازن زندگی کی اہمیت کے حوالے سے شرکا کو چند اعداد و شمار پیش کیے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 11 ہزار خواتین بوجہ حمل و زچگی موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔
علماء کا موقف
دوران اجلاس علما کا مؤقف تھا کہ شرعی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ بچوں کی صحت کے تناظر میں والدین کا فرض منصبی بنتا ہے، ہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ کوئی غیر شرعی طریقہ اختیار نہ کیا جائے اور نہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس کے طبی نقصانات ہوں۔








