کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمیں کامیاب افراد سے نہیں خود کامیابی سے ہی نفرت ہے، عجیب دوغلے لوگ ہیں جو ہمیں پسند ہے دوسروں کو پسند نہیں کرنے دیتے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 239
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی سب سے امیر گلوکارہ کون؟ دولت اتنی زیادہ کہ یقین نہ آئے
مقابلوں کا آغاز
خیر یہ 3 دن کھاریاں کی کھیل کی تاریخ کے سنہرے دن تھے۔ تقریباً ایک لاکھ افراد 3 دن تک ان مقابلوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ آخری دن گریژن کمانڈر کھاریاں کینٹ میجر جنرل قریشی مہمان خصوصی تھے۔ ان کی جیپ گھوڑوں کے سائے میں ڈائس تک لائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: حیدر آباد میں قومی شاہراہ پر بس نے رکشہ کو ٹکر مار دی، 2 افراد جاں بحق ، 6زخمی
استقبالیہ اور انعامات کی تقسیم
تحصیل دار کھاریاں ذوالفقار باگڑی(اچھا گھڑ سوار اور عرفان کی ٹیم کا رکن بھی تھا) استقبالیہ دستے کی قیادت کر رہا تھا۔ جنرل صاحب نے آ خری دن کے سنسنی خیز مقابلے دیکھے اور جیتنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر 27ویں ترمیم لوکل گورنمنٹ کے لیے کرنی پڑتی ہے تو فوراً کریں: سپیکر پنجاب اسمبلی
اختتامی کلمات
اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے نہایت اچھے الفاظ میں مجھے خراج تحسین پیش کیا؛”مجھے علم ہے یہ مقابلے کرانے میں پراجیکٹ منیجر کھاریاں شہزاد احمد حمید نے بہت محنت کی۔ دن رات ایک کرکے ہمیں یہ شاندار مقابلے دیکھنے کو دئیے۔ اس شخص اور ان مقابلوں کو یہاں کے لوگ عرصہ تک یاد رکھیں گے۔“ مجھے افسوس میرے اے سی نے ایک لفظ بھی میرے بارے میں نہیں کہا۔ سول اور فوجی قیادت میں یہی بڑا فرق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل کرنسی کے اجراء کیلئے جاپانی کمپنی کو منتخب کر لیا
دوستی اور مقابلہ
ان مقابلوں میں انکل نذیر، مشتاق، اور دیگر میرے رفقاء بھی میرے ساتھ رہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ دیشا پٹانی کے گھر پر فائرنگ
انسانی نفسیات
انا کے مارے لوگ؛ ہم بھی عجیب لوگ ہیں، دوسرے کی کامیابی سے خوش نہیں ہوتے۔ کسی کو کامیاب ہوتے دیکھ کر ہم اسے ناکام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر سرکاری نوکری میں اچھے بیک گراؤنڈ سے ہیں اور ساتھیوں کی نسبت چند سہولتیں زیادہ رکھتے ہیں تو جیلسی آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے تمام موبائل صارفین کو 2 جی بی ڈیٹا اور 200 منٹ فری دینے کا اعلان کر دیا
دوسروں کے لیے حسد
ہماری یہ بھی عادت ہے کہ ہم دوسروں سے ان کے زیر استعمال اشیاء کی قیمت دریافت کرنا بھی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ہم خود جتنے بھی خوش ہوں، خوشحال ہوں، دوسروں کو نہ خوش اور نہ ہی خوشحال دیکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی نظام چلانے کے لیے قرآن سے سبق لینا ضروری، فساد اور دہشتگردی کو ختم کرنے کا حکم ہے: اسحاق ڈار
بھولنے کی عادت
ہم پرانی باتوں کو بھولتے نہیں۔ کسی کی اچھائی یاد رکھیں یا نہ رکھیں، اس کا برا کبھی بھولتے نہیں۔ ہم کسی کی نہ کو اپنی انا بنا لیتے ہیں اور پھر اس سے بدلہ لینے کے لئے عمر بھر موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا
کامیابی سے نفرت
اتنے فارغ لوگ ہیں کہ ہم دوسروں کے عیب نکالنے میں وقت کی پرواہ نہیں کرتے۔ ہم کسی کو بھی کامیابی کا کریڈٹ دینے کو تیار نہیں، خاص طور پر اگر ہمسائے ملک میں کوئی ہندو کامیابی کا زینہ طے کر کے ٹاپ پر پہنچے تو ہم اس کی محنت کو نہیں بلکہ اس کو دشمن ملک کا باشندہ ہونے کی نسبت سے ہماری نفرت کی نذر کر دیتے ہیں۔
اختتام اور نوٹ
امیر ہونے کے لئے ہم ہر طریقے آزمائیں گے مگر اس بات پر اعتراض ہے کہ دوسرے نے یہ دولت ویسے ہی انداز میں کیوں کمائی۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کامیاب افراد سے نہیں بلکہ خود کامیابی سے ہی نفرت ہے۔ ہم عجیب دوغلے لوگ ہیں، جو ہمیں پسند ہے دوسروں کو پسند نہیں کرنے دیتے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








