عافیہ صدیقی سے عمران خان تک: قید کا جواز ؟
عافیہ صدیقی کا مقدمہ اور ہماری قوم
جب کسی قوم کے زخموں پر نمک چھڑکنے والا اس کا حکمران ہو تو شفا کے خواب بھی گناہ بن جاتے ہیں۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اڈیالہ جیل سے رہا، محفوظ مقام پر منتقل؟ سوشل میڈیا پر ہنگامہ
مظلوم کی آواز کو دبانا
جب مظلوم کی فریاد کو اقتدار کی میز پر تمسخر بنا دیا جائے تو عدل کا ترازو زمین پر گر جاتا ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل دہشتگردی کے خلاف تعاون کی اپیل، حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے ڈیٹا شیئرنگ اور تعاون کا مطالبہ کیا
وزیر اعظم کا اعلان اور اسحاق ڈار کا بیان
ابھی کل ہی قوم نے یہ خبر سنی تھی کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔۔۔یہ اعلان بظاہر ایک امید کی کرن تھا، لیکن اُس سے اگلے لمحے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں بیٹھ کر جو کہا، وہ صرف ایک بیان نہیں تھا، بلکہ یہ قوم کے شعور کی توہین، قربانیوں کی تذلیل اور مظلومیت کا قتل تھا۔۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہیکرز نے بھارت کے خلاف “آپریشن سالار” کے نام سے منظم سائبر مہم کا آغاز کر دیا
ناانصافی کا جواز
اسحاق ڈار نے اٹلانٹک کونسل میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا "میں اگر کہوں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں ناانصافی ہوئی تو یہ غلط ہو گا کیونکہ یہ سب ’ڈیو پروسیس‘ یعنی قانونی طریقے سے ہوا"۔ موجودہ حکمرانوں کے نزدیک مظلوم صرف وہی ہوتا ہے جو ان کے مفادات کے تابع ہو۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے مظاہروں کے 4 سال بعد کیوبا کے صدر پر پابندیاں عائد کردیں
عافیہ صدیقی: ایک علامت
عافیہ صدیقی صرف ایک عورت نہیں، بلکہ وہ پاکستانی ریاست کی غیرت کا استعارہ ہیں۔۔۔ وہ اس بیٹی کی علامت ہیں جسے اس کی ماں نے قرآن پڑھا کر دعائیں دے کر رخصت کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ، بھارتی پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے نے مودی کا جھوٹ بے نقاب کردیا
ظلم کی انتہا
آج، اُسی قوم کا نائب وزیر اعظم اُسے 'قانونی سزا یافتہ مجرم' قرار دے رہا ہے، محض اس لیے کہ اسے عمران خان کی قید کو جائز قرار دینا ہے۔۔۔
یہ بھی پڑھیں: عراق نے اسرائیل کیخلاف سلامتی کونسل کو احتجاجی مراسلہ کیوں لکھا۔۔۔؟ تفصیلات سامنے آ گئیں
تاریخی مثالیں
کیا تاریخ میں کسی ظالم نے اپنی ناانصافی کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایک اور مظلوم کی مثال دی ہے؟ اگر یزید نے یہ کہہ دیا ہوتا کہ امام حسینؓ کی قربانی بھی "قانونی کارروائی" کے تحت تھی تو کیا کربلا کی تپتی ریت اس بیان کو قبول کر لیتی؟
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کی مدت ملازمت 2027ء میں پوری ہوگی اس کے بعد ایکسٹینشن کا سوال پیدا ہوگا، رانا ثنا اللہ
عمران خان کی حالت
عمران خان کی قید، اس قوم کی خودداری کی قید ہے۔۔۔ وہ محض ایک شخص نہیں، بلکہ ایک بیانیہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اس صدی کے آخر تک ایک تہائی جانداروں کی معدومی کا خظرہ، نئی تحقیق نے خطرے کی گھنٹی بجادی
قوم کی آواز
جب قومیں اپنی مظلوم بیٹیوں کی صدائیں سننا چھوڑ دیں، جب وہ اپنے محبوب رہنماوں کی جدوجہد کو جرائم بنا دیں، تو اُن کا زوال یقینی ہو جاتا ہے۔۔۔
اختتام
یہ وہی ن لیگ ہے جو کبھی انسانی حقوق کی بات کرتی تھی لیکن آج وہی جماعت مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مسیحا بنا کر پیش کر رہی ہے۔ تاریخ میں ایسے کرداروں کی فہرست طویل ہے۔ سچ ایک دن ضرور بولے گا اور جب بولے گا تو گرجے گا۔۔۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس '[email protected]' یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








