راولپنڈی میں خاتون کے قتل کا معاملہ، مقتولہ کے سسر کا بیان سامنے آگیا، تہلکہ خیز انکشافات
راولپنڈی میں غیرت کے نام پر قتل
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں مبینہ طور پر جرگے کے حکم پر غیرت کے نام پر قتل ہونے والی شادی شدہ خاتون کی نکاح کی دستاویزات اور سسر کا بیان سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی گھریلو سلنڈر پر 50 فیصد سے زائد ٹیکس وصولی کا انکشاف
نکاح کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق مقتولہ کے نکاح کی دستاویزات بتاتی ہیں کہ خاتون نے مظفر آباد میں 12 جولائی کو عثمان نامی لڑکے سے نکاح کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے واقعات پر فیکٹ شیٹ جاری، جنوری تا جون 6ماہ کے دوران 15 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے
خاتون کا بیان
مقتولہ خاتون کا خاوند عثمان چہلہ بانڈی مظفر آباد کا رہائشی ہے اور راولپنڈی میں ملازمت کرتا ہے۔ مقتولہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ مظفر آباد کے روبرو اپنا بیان بھی جمع کرایا تھا اور عدالت سے تحفظ بھی مانگا تھا۔
مقتولہ نے عدالت میں عثمان کے ساتھ مرضی سے نکاح کرنے کا بیان جمع کراتے ہوئے اپنی جان کو خطرے میں ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی عدالت نے سیف علی خان کو 15 ہزار کروڑ کی وراثتی جائیداد سے کیوں محروم کیا؟ جانیے
فیملی کا پس منظر
مقتولہ نے عدالت کے سامنے بیان میں کہا کہ اس کا والد فوت ہو چکا ہے اور والدہ نے دوسری شادی کر لی ہے۔ مقتولہ نے اپنی والدہ کو بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے پہلے شوہر نے اس کو زبانی طلاق دے دی ہے، جس کے بعد خاتون نے عثمان سے نکاح کیا۔
یہ بھی پڑھیں: صائم ایوب نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا ناپسندیدہ ورلڈ ریکارڈ برابر کر دیا۔
سسر کا بیان
مقتولہ کے سسر اور شوہر عثمان کے والد محمد الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ میرا بیٹا عثمان پیرودھائی بس سٹینڈ ورکشاپ میں کام کرتا ہے، ہم لوگ مزدوری کرکے مشکل سے گزر بسر کرتے ہیں۔ مقتولہ نے تحفظ مانگا تو 30, 40 ہزار روپے کا بندوبست کرکے میں انہیں عدالت لے گیا، میں نے نکاح کرایا اور عدالت میں بیانات جمع کرائے۔
قتل کے بعد کی صورتحال
سسر نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ نکاح کے 4 دن بعد 10 لوگ ہمارے گھر اسلحے سمیت داخل ہوئے اور ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ مقتولہ کے گھر والوں نے کہا کہ اب نکاح ہو گیا ہے، ہم اسے رخصت کریں گے۔
محمد الیاس نے مزید بتایا کہ ہم نے لڑکی کو اس کی فیملی کے سپرد کر دیا، لیکن 2 دن بعد معلوم ہوا کہ لڑکی کا قتل ہوا ہے۔ لڑکی کے قتل کا سن کر ہم اور ڈر گئے، اور اپنے بیٹے پر الزام نہ آنے کے لیے میں نے خود اسے پولیس کے حوالے کیا۔ میری درخواست ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔








