اسلام آباد کی مارکیٹوں سے چینی غائب، شہری چینی کی تلاش میں بازاروں کے چکر لگانے پر مجبور
اسلام آباد میں چینی کا بحران
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں شہریوں کی چینی کی عدم دستیابی کے باعث بازاروں میں چکر لگانا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر سے خالصتان رہنماؤں کے قتل تک، دہشت گردی بھارت کی ریاستی حکمت عملی بن چکی، دنیا اصلی چہرہ دیکھ لے: خصوصی رپورٹ
دکانداروں کی مشکلات
دکانداروں کا کہنا ہے کہ چینی کا سرکاری ریٹ 172 روپے فی کلو ہے، جبکہ منڈی میں یہ 178 سے 188 روپے مل رہی ہے۔ پرائس مجسٹریٹ کی گرفتاریوں کی وجہ سے دکاندار چینی کو بازار میں رکھنے سے کترانے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیدیے۔
عوام کی پریشانی
وفاقی دارالحکومت کی مارکیٹوں میں چینی کی عدم موجودگی سے عوام پریشان ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک ملک جو چینی کی پیداوار میں خودمختار ہے، وہاں چینی نہیں ملتی تو باقی اشیاء کی کیا حالت ہوگی؟
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل: انضمام الحق پشاور زلمی کے بعد راولپنڈی سے منسلک ہوگئے
چینی کی فراہمی میں رکاوٹ
چینی ڈیلروں کے مطابق، شوگر ملز نے حکومت سے 165 روپے ایکس مل پرائس کا معاہدہ کرتے ہوئے چینی کی فراہمی روک دی ہے۔ چینی کا اسٹاک ختم ہونے لگا ہے، لیکن شوگر ملز اس الزام کی تردید کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چار شادیوں کے حق میں نہیں ہوں مگر اس میں زیادہ قصور عورتوں کا ہے: یاسر حسین
حکومت کا اقدام
چینی کی عدم دستیابی اور چینی ایکسپورٹرز و ڈیلرز کے خلاف تحقیقات کے سبب حکومت نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا اجلاس بلایا ہے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر کی زیر صدارت اجلاس میں عوام کو سستی چینی فراہم کرنے کے معاہدے پر عمل درآمد کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت نئی قیمتیں
حکومت اور شوگر ملز کے درمیان معاہدے کے مطابق، یکم اگست سے ایکس مل پرائس 165 سے 167 روپے ہو جائے گی، جبکہ حکومت نے اُن چینی ڈیلرز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا عمل شروع کر دیا ہے جنہوں نے پچھلے دسمبر میں چینی ایکسپورٹ کی تھی۔








