اسلام آباد کی مارکیٹوں سے چینی غائب، شہری چینی کی تلاش میں بازاروں کے چکر لگانے پر مجبور
اسلام آباد میں چینی کا بحران
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں شہریوں کی چینی کی عدم دستیابی کے باعث بازاروں میں چکر لگانا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2025 کی بہترین چھوٹی ویڈیو ڈاؤن لوڈر ایپس
دکانداروں کی مشکلات
دکانداروں کا کہنا ہے کہ چینی کا سرکاری ریٹ 172 روپے فی کلو ہے، جبکہ منڈی میں یہ 178 سے 188 روپے مل رہی ہے۔ پرائس مجسٹریٹ کی گرفتاریوں کی وجہ سے دکاندار چینی کو بازار میں رکھنے سے کترانے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا پولیس کو افسران، بلٹ پروف گاڑیاں اور کم اجرت کا سامنا
عوام کی پریشانی
وفاقی دارالحکومت کی مارکیٹوں میں چینی کی عدم موجودگی سے عوام پریشان ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک ملک جو چینی کی پیداوار میں خودمختار ہے، وہاں چینی نہیں ملتی تو باقی اشیاء کی کیا حالت ہوگی؟
یہ بھی پڑھیں: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، ریلوے کی سکھر میں اراضی ایک روپے فی مربع گز لیز پر دینے کا انکشاف، ہسپتال کی جگہ شادی ہال اور موبائل ٹاورز لگ گئے۔
چینی کی فراہمی میں رکاوٹ
چینی ڈیلروں کے مطابق، شوگر ملز نے حکومت سے 165 روپے ایکس مل پرائس کا معاہدہ کرتے ہوئے چینی کی فراہمی روک دی ہے۔ چینی کا اسٹاک ختم ہونے لگا ہے، لیکن شوگر ملز اس الزام کی تردید کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی بحالی کی صورتحال ہے ؟ جانیے
حکومت کا اقدام
چینی کی عدم دستیابی اور چینی ایکسپورٹرز و ڈیلرز کے خلاف تحقیقات کے سبب حکومت نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا اجلاس بلایا ہے۔ وفاقی وزیر رانا تنویر کی زیر صدارت اجلاس میں عوام کو سستی چینی فراہم کرنے کے معاہدے پر عمل درآمد کے طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت نئی قیمتیں
حکومت اور شوگر ملز کے درمیان معاہدے کے مطابق، یکم اگست سے ایکس مل پرائس 165 سے 167 روپے ہو جائے گی، جبکہ حکومت نے اُن چینی ڈیلرز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا عمل شروع کر دیا ہے جنہوں نے پچھلے دسمبر میں چینی ایکسپورٹ کی تھی۔








