بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید
نوجوانوں کا ماورائے عدالت قتل
سری نگر (ڈیلی پاکستان آن لائن) قابض بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کی آڑ میں مزید 3 کشمیری نوجوانوں کو ماروائے عدالت قتل کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مملکت سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ
سرچ آپریشن کی تفصیلات
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنت نظیر وادی کے ضلع پہلگام کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے گھر گھر تلاشی لی گئی۔ قابض بھارتی فوج نے ایک گھر سے تین نوجوانوں کو حراست میں لے لیا اور بعد میں ان کی گولیاں لگی اور تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز کٹھ پتلی حکومت نے نوجوانوں کو مسلح عسکریت پسند ظاہر کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے واقعے کو مقابلہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی جانب سے 111 مستحق افراد میں الیکٹرک وہیل چیئرز سمیت دیگر معاون آلات کی تقسیم
علاقہ مکینوں کا بیان
ادھر علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تینوں نوجوان نہتے تھے اور مقامی کالج کے طالب علم تھے جو ایک ساتھ کرائے پر اس گھر میں رہتے تھے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزی
قابض بھارتی فوج نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے نوجوانوں کی لاشیں لواحقین کے بجائے پولیس کے حوالے کردیں۔ شہید نوجوانوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی لاشوں کے حصول کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔








