ہم ٹی وی کے ڈراموں میں عورت کو تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں دیتی، سلطانہ صدیقی
سلطانہ صدیقی کا اصولی موقف
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) نجی ٹی وی چینل ’’ہم ٹی وی‘‘ کی صدر، ڈراما پروڈیسر اور ماضی کی معروف ہدایت کارہ سلطانہ صدیقی نے کہا ہے کہ وہ اپنے ٹی وی چینل پر دکھائے جانے والے ڈراموں میں عورت کو تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں دیتیں، تاہم اس باوجود کسی نہ کسی ڈرامے میں خاتون کو ایک آدھ تھپڑ لگ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی یونٹ پر 7 روپے کمی کا ریلیف ختم ہوگیا
ٹی وی انڈسٹری میں تربیت کا کردار
سلطانہ صدیقی نے حال ہی میں پاکستان ٹیلی وژن کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر اور ٹی وی نیٹ ورک شروع کرنے سمیت دیگر معاملات پر کھل کر گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بہت سارے ٹی وی چینلز آگئے لیکن وہاں کام کرنے والے زیادہ تر ہدایت کاروں، پروڈیوسرز و لکھاریوں کے پاس زیادہ اچھا تجربہ نہیں تھا، انہوں نے لوگوں کو تیار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب چینلز کی بندش اور لسٹ تیار ہونے کی خبروں پر پی ٹی اے کا موقف بھی آگیا، دوٹوک اعلان کردیا
فخر اور کامیابی
سلطانہ صدیقی نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے اور وہ اس کا دعویٰ بھی کرتی ہیں کہ انہوں نے بہت سارے لوگوں کی تربیت کی اور اب ان کے ہی لوگوں کو دوسرے ٹی وی چینلز 2 لاکھ روپے کے معاوضے کے مقابلے 8 لاکھ روپے دے کر ان سے کام کروا رہے ہیں جو کہ اچھی بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کویت میں عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کا اعلان
ڈراموں میں عورتوں کی عکاسی
ان کا کہنا تھا کہ ان کے ٹی وی چینلز پر ایک ہی ہفتے میں 21 تک ڈرامے نشر ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر ڈراموں میں خواتین کے کرداروں کو تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق جہاں ہفتے میں 21 ڈرامے نشر کیے جا رہے ہیں، وہیں کسی ایک آدھ ڈرامے میں عورت کو ایک آدھ تھپڑ لگ بھی جاتا ہے اور اتنے تھپڑ حقیقی زندگی میں بھی خواتین برداشت کرتی ہیں لیکن وہ اپنے ڈراموں میں عورتوں کو زیادہ تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں دیتیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں قید ملزم جیل سے فرار
عورتوں کے حقوق کی حمایت
سلطانہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی، اصولوں اور یہاں تک کہ ان کے ٹی وی چینل ہم ٹی وی پر دکھائے جانے والے ڈراموں میں بھی عورتوں کو تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں۔
لکھاریوں کی دلچسپی
دوران گفتگو انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں متعدد لکھاریوں نے بتایا کہ وہ دوسرے ٹی وی چینلز والوں سے خود پوچھتے ہیں کہ آپ ڈرامے کی کسی بھی قسط میں پہلے وقفے سے قبل عورت کو کتنے تھپڑ مروانا چاہتے ہیں؟








