100 ملین ڈالر کا ڈوبنا انڈیا کا پروپیگنڈا
سوشل میڈیا کی حقیقت
بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر جس کا جو دل کرتا ہے وہ اپنی خواہش کو خبر بنانے کی کوشش کرتا ہے جبکہ ایسی خبر کا حقائق سے دور دورتک کا تعلق نہیں ہوتا۔ یہ عاقبت نا اندیش لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ایسا کرنے سے ملک پاکستان کا نقصان کس قدر ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کل جماعتی حریت کانفرنس نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کی کال دیدی
کرپٹو کرنسی کے بارے میں افواہیں
آج کل سوشل میڈیا پر کرپٹو کرنسی میں ایک حکمران خاندان 100 ملین ڈالر ڈوبنے کے حوالے سے کئی ایک کہانیاں چل رہی ہیں لیکن ان کا کوئی سر پاؤں نہیں۔ نہ ہی ان کہانیوں کا نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا براہ راست کوئی تعلق ہے۔ یہ دو سے تین سال پرانا معاملہ ہے اور گڑھے مردے اب اکھاڑے جا رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ انڈیا کا پروپیگنڈا ہے جس کو پاکستان کے ہاتھوں اپنی عبرتناک شکست نہیں بھول رہی۔
یہ بھی پڑھیں: باجوڑ میں قبائلی عمائدین اور فتنۃ الخوارج کا جرگہ ناکام؛ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری
علی ڈار کا تجارتی پراجیکٹ
اصلی کہانی یہ ہے کہ، دو تین سال قبل نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار نے جوکہ دبئی میں اپنا بزنس کرتے ہیں، کرپٹو کرنسی کا ایک پراجیکٹ لانچ کیا جس کا نام انہوں نے "کووئنٹ" رکھا تھا۔ لوگوں نے اس پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کی، لیکن بدقسمتی سے اس پراجیکٹ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور یہ کوائن ڈمپ کر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کرکٹر سدرہ امین کا سنچری کے بعد ’6‘ کا اشارہ، بھارتی تلملا اُٹھے
نقصان اور قانونی چارہ جوئی
جن لوگوں نے ان پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کی تھی، ان میں متحدہ عرب امارات کی بڑی کاروباری شخصیات اور کمپنیاں بھی شامل تھیں۔ جب ان کی سرمایہ کاری ڈوب گئی تو انہوں نے اپنے سرمائے کی واپسی کیلئے قانونی چارہ جوئی کی اور یہ خبر منظر عام پر آ گئی۔ یار لوگوں نے حکومت کو نیچا دکھانے کیلئے اسحاق ڈار سے جوڑنا شروع کردیا جبکہ حقیقت میں اس کا اسحاق ڈار اور حکومت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ائیرپورٹ پر غیر ملکی ائیر لائن کا طیارہ لینڈنگ کے دوران ہولناک حادثے سے بچ گیا
صحافتی تبصرے اور تحقیقات
اب اس خبر پر کچھ صحافی خواتین و حضرات طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، اس کی منی ٹریل تلاش کریں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ علی ڈار کا دبئی میں بزنس وینچر تھا اور اب سرمایہ دار علی ڈار کے پیچھے پیچھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لالی وڈ انڈسٹری کی فلمی اداکارہ، ماڈل، ٹی وی سٹار ثوبیہ مہر نے شارجہ میں لیڈیز سیلون کھول لیا
پاکستان کی ترقی اور کرپٹو اقدامات
پاکستان میں کرپٹو کے حوالے سے بہترین اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور پہلی مرتبہ پاکستان نے کسی ٹیک میدان میں بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جو لوگ کرپٹو سے وابستہ ہیں وہ بتا سکتے ہیں کہ گزشتہ چند ماہ میں کرپٹو سے متعلق جتنا کام پاکستان میں ہوا، شاید کسی اور ملک میں دس سال میں بھی اتنا کام نہ ہوا ہو۔
نتیجہ
پاکستان واحد ملک ہے جس میں کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن کے حوالے سے نظام وضع کیا گیا ہے۔ مفتاح اسماعیل کا بیانیہ بھی ہمارے ازلی دشمن ملک انڈیا کے بیانیہ سے ملتا جلتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے، جو کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








