پاکپتن میں ڈکیتی کے دوران لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا سنسنی خیز موڑ
پاکپتن میں ڈکیتی کا واقعہ
پاکپتن (ویب ڈیسک) پاکپتن میں روڈ ڈکیتی کے دوران 16 سالہ لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کا ڈراپ سین ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے اپنی معیشت کا ماڈل رینٹ اے ٹیرریسٹ پر کھڑا کر لیا ہے، ماہر بین الاقوامی امور ڈاکٹر شازیہ انور چیمہ
پہلا واقعہ
جیو نیوز کے مطابق 10 سالہ لڑکی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پاکپتن کے گاؤں ملک بہاول کے قریب 23 ستمبر کی رات پیش آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ، پنجاب کے 6 اضلاع میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری
تحقیقات کا آغاز
ایس پی انویسٹی گیشن شاہدہ نورین نے میڈیا کو بتایا کہ لڑکی کے بھائی آصف عرف عاصم اور ان کے دیگر عزیزوں پر بہاولنگر میں زیادتی کے 5 مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات کاؤنٹر کرنے کے لیے آصف عرف عاصم نے اپنی بہن شہزادی کے ذریعے ڈکیتی کے دوران اجتماعی زیادتی کا جھوٹا واقعہ بنایا اور اپنے مخالفین کو اس مقدمے میں نامزد کر دیا۔
پولیس کی تحقیقات
پولیس حکام کے مطابق لڑکی کی ڈی این اے رپورٹ منفی آئی، جبکہ لڑکی کا مبینہ طور پر چھینا گیا موبائل فون بھی اس کی ماں سے برآمد ہو گیا۔ جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کرنے پر کارروائی کی جائے گی۔








