درخواست گزار کے شوہر نے خود کیوں درخواست دائر نہیں کی، سب سے بڑی ہراسمنٹ یہ ہے مرد خود پیچھے ہو کر خواتین کو آگے کر دیتے ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ریمارکس
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں شہری کے گھر پر ریڈ کیخلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنے مقدمات کے باوجود پولیس نے تنگ نہیں کیا، اب کیوں کرے گی؟
یہ بھی پڑھیں: سابق صدر عارف علوی کے وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست گزار کے شوہر کی حیثیت
درخواست گزار کے شوہر نے خود کیوں درخواست دائر نہیں کی؟ سب سے بڑی ہراسمنٹ یہ ہے کہ مرد خود پیچھے ہو کر خواتین کو آگے کر دیتے ہیں۔ آپ نے پورے ضلع کی پولیس کو پارٹی بنایا ہے؟ خاتون کو کیسے پتہ چلا کہ کس کس تھانے کو فریق بنانا ہے؟ یہ تو جھوٹے بیان حلفی کا کیس بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شک کی بنیاد پر 90 روز تحویل میں رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے, فضل الرحمان.
پولیس کی رپورٹ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں شہری کے گھر پر ریڈ کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ آر پی او فیصل آباد نے عدالتی حکم پر رپورٹ پیش کی، پولیس رپورٹ کے مطابق درخواستگزار کا شوہر متعدد مقدمات میں ضمانت پر ہے، کسی تھانے کے اہلکاروں نے درخواستگزار کے گھر پر ریڈ نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کی تصاویر والے اشتہارات پر حکومت سے جواب طلب
چیف جسٹس کے سوالات
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پولیس کہہ رہی ریڈ نہیں کی، وکیل صاحب آپ کیا کہتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ ہم جھوٹ کیوں بولیں گے، کچہریوں کے چکر لگانا کس کو پسند ہے؟
یہ بھی پڑھیں: میوزک پروگرام سے واپسی پر اغوا کی کوشش، بھاگنے پر خواجہ سرا ’’وفا‘‘ کو گولیاں مار دی گئیں
درخواست گزار کے شوہر کی کریمنل ہسٹری
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ درخواستگزار کے شوہر کی کریمنل ہسٹری سن لیں۔ درخواستگزار کا شوہر 1984 میں قتل کے مقدمے میں نامزد ہوا، دوسرا مقدمہ 1991 میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج ہوا۔ 1996 میں نائن سی، 1997 میں اسلحہ کیس بھی بنا، 2011 میں بھی منشیات کے مقدمات درج ہوئے۔ اتنے مقدمات کے باوجود پولیس نے تنگ نہیں کیا، اب کیوں کرے گی؟
کیس کا اختتام
چیف جسٹس نے پولیس رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔








