درخواست گزار کے شوہر نے خود کیوں درخواست دائر نہیں کی، سب سے بڑی ہراسمنٹ یہ ہے مرد خود پیچھے ہو کر خواتین کو آگے کر دیتے ہیں، چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ریمارکس
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں شہری کے گھر پر ریڈ کیخلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اتنے مقدمات کے باوجود پولیس نے تنگ نہیں کیا، اب کیوں کرے گی؟
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی جنگی تیاریاں، 7 مئی کو ریاستوں میں فرضی مشقوں کا حکم، فضائی حملوں کے سائرن اور شہری تربیت کی ہدایت کردی گئی۔
درخواست گزار کے شوہر کی حیثیت
درخواست گزار کے شوہر نے خود کیوں درخواست دائر نہیں کی؟ سب سے بڑی ہراسمنٹ یہ ہے کہ مرد خود پیچھے ہو کر خواتین کو آگے کر دیتے ہیں۔ آپ نے پورے ضلع کی پولیس کو پارٹی بنایا ہے؟ خاتون کو کیسے پتہ چلا کہ کس کس تھانے کو فریق بنانا ہے؟ یہ تو جھوٹے بیان حلفی کا کیس بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کی تلاش میں سرگرداں شوہر کو واٹس ایپ سٹیٹس پر ایسی ویڈیو نظر آگئی کہ ہوش اڑ گئے
پولیس کی رپورٹ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں شہری کے گھر پر ریڈ کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ آر پی او فیصل آباد نے عدالتی حکم پر رپورٹ پیش کی، پولیس رپورٹ کے مطابق درخواستگزار کا شوہر متعدد مقدمات میں ضمانت پر ہے، کسی تھانے کے اہلکاروں نے درخواستگزار کے گھر پر ریڈ نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: بینائی سے محروم افراد کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی آئینی ذمہ داری ہے: صدر مملکت
چیف جسٹس کے سوالات
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پولیس کہہ رہی ریڈ نہیں کی، وکیل صاحب آپ کیا کہتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ ہم جھوٹ کیوں بولیں گے، کچہریوں کے چکر لگانا کس کو پسند ہے؟
یہ بھی پڑھیں: راہول گاندھی نے مودی سے 3 سوالات کے جوابات مانگ لیے
درخواست گزار کے شوہر کی کریمنل ہسٹری
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ درخواستگزار کے شوہر کی کریمنل ہسٹری سن لیں۔ درخواستگزار کا شوہر 1984 میں قتل کے مقدمے میں نامزد ہوا، دوسرا مقدمہ 1991 میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج ہوا۔ 1996 میں نائن سی، 1997 میں اسلحہ کیس بھی بنا، 2011 میں بھی منشیات کے مقدمات درج ہوئے۔ اتنے مقدمات کے باوجود پولیس نے تنگ نہیں کیا، اب کیوں کرے گی؟
کیس کا اختتام
چیف جسٹس نے پولیس رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔








