حکومت کا شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ
حکومت کا شوگر انڈسٹری کی ڈی ریگولیشن کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے شوگر انڈسٹری کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب صرف 5 لاکھ ٹن چینی کا بفر اسٹاک حکومت کے پاس ہوگا جبکہ بقیہ مارکیٹ معاملات نجی شعبہ خود سنبھالے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر حکومتی ایم پی ایز نے اسمبلی نہیں آنا تو عوام کے ٹیکس کا پیسہ کیوں برباد کیا جا رہا ہے؟ صحافی صدیق جان
ڈی ریگولیشن کے حوالے سے تجاویز
نجی ٹی وی چینل آج نیوز ذرائع کے مطابق، ڈی ریگولیشن کی تجاویز کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جسے آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری
ہنگامی حالات میں رسپانس
ذرائع کے مطابق، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے پاس چینی کا صرف ایک ماہ کی کھپت کے برابر ذخیرہ رکھا جائے گا تاکہ ہنگامی حالات میں فوری رسپانس ممکن ہو۔ اس کے علاوہ حکومت چینی کی پیداوار، قیمتوں یا فروخت میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں ڈیلیوری بوائے نے سڑک کنارے پڑا تکیہ دیکھ کر خاتون کی زندگی بچا لی
سبسڈی میں ممکنہ اضافہ
تجاویز کے مطابق اگر چینی کی قیمتیں قابو میں نہ آئیں تو حکومت سبسڈی کے حجم میں اضافہ کر سکتی ہے تاکہ صارفین کو ریلیف دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ضروری ہے، حالات میں بہتری آسکتی ہے، بیرسٹر گوہر
مارکیٹ میں مسابقت اور کسانوں کے فوائد
حکام کا کہنا ہے کہ ڈی ریگولیشن سے نہ صرف مارکیٹ میں مسابقت بڑھیگی بلکہ کسان کو گنے کے بہتر نرخ بھی مل سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق چینی کی وافر مقدار پیدا کرکے نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جائیں گی بلکہ برآمد کے ذریعے ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ
حکومت کا ہدف ہے کہ شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک کی جائے، جس سے سالانہ 2.5 ملین ٹن اضافی چینی تیار کی جا سکے گی۔ یہ اضافی چینی برآمد کر کے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرنے کی توقع ہے۔








