حکومت کا شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ
حکومت کا شوگر انڈسٹری کی ڈی ریگولیشن کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے شوگر انڈسٹری کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب صرف 5 لاکھ ٹن چینی کا بفر اسٹاک حکومت کے پاس ہوگا جبکہ بقیہ مارکیٹ معاملات نجی شعبہ خود سنبھالے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: اب حکومت خود آپ کو روزگار کیلئے بیرون ملک بھیجے گی، ویزہ سے لے کر ٹکٹ تک کا خرچہ حکومت کرے گی، اپلائی کرنے کا آسان طریقہ
ڈی ریگولیشن کے حوالے سے تجاویز
نجی ٹی وی چینل آج نیوز ذرائع کے مطابق، ڈی ریگولیشن کی تجاویز کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جسے آئندہ ہفتے وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے پر صدر ٹرمپ کا بیان آ گیا، کیا مطالبہ کر دیا؟ جانیے
ہنگامی حالات میں رسپانس
ذرائع کے مطابق، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے پاس چینی کا صرف ایک ماہ کی کھپت کے برابر ذخیرہ رکھا جائے گا تاکہ ہنگامی حالات میں فوری رسپانس ممکن ہو۔ اس کے علاوہ حکومت چینی کی پیداوار، قیمتوں یا فروخت میں کوئی مداخلت نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے قبیلے سے ملنے کی کوشش پر امریکی یوٹیوبر گرفتار کرلیا گیا
سبسڈی میں ممکنہ اضافہ
تجاویز کے مطابق اگر چینی کی قیمتیں قابو میں نہ آئیں تو حکومت سبسڈی کے حجم میں اضافہ کر سکتی ہے تاکہ صارفین کو ریلیف دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: آذربائیجان کی یوم آزادی پر ترکیہ، پاکستان کے رہنماو¿ں کی شرکت دوستی کی عکاس ہے: الہام علیوف
مارکیٹ میں مسابقت اور کسانوں کے فوائد
حکام کا کہنا ہے کہ ڈی ریگولیشن سے نہ صرف مارکیٹ میں مسابقت بڑھیگی بلکہ کسان کو گنے کے بہتر نرخ بھی مل سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق چینی کی وافر مقدار پیدا کرکے نہ صرف ملکی ضروریات پوری کی جائیں گی بلکہ برآمد کے ذریعے ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ
حکومت کا ہدف ہے کہ شوگر ملز کی پیداواری صلاحیت 50 فیصد سے بڑھا کر 70 فیصد تک کی جائے، جس سے سالانہ 2.5 ملین ٹن اضافی چینی تیار کی جا سکے گی۔ یہ اضافی چینی برآمد کر کے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل کرنے کی توقع ہے۔








