جسٹس افتخار محمد چودھری نے انٹرویو لیتے وقت میرا سی وی دیکھنے کے بعد فرمایا کہ اپنے سابقہ دفتر سے فیملی ثبوت لے کر آئیں کہ آپ نے استعفیٰ دیا تھا۔
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 112
یہ بھی پڑھیں: آئندہ 30 دنوں میں لیپ ٹاپ سکیم کے اجراء کی ڈیڈ لائن،کتنے لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے ؟ جانیے.
بھائی کا دورہ
میرے سینئر رانا محمد سرور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ایک دن سرگودھا سے میرے بڑے بھائی نمبردار رانا نصیر احمدخاں جو سرگودھا سلانوالی چک نمبر 131 جنوبی میں والد صاحب کی زمینوں کی دیکھ بھال کرتے تھے، لاہور میرے گھر آئے ہوئے تھے۔ اگلے روز اْن کی ایک رِٹ پٹیشن ہائی کورٹ لاہور میں لگی ہوئی تھی، وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے وکیل رانا محمد سرور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے آفس لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سربراہ پاک فضائیہ کا سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے خاندان سے اظہار تعزیت
سرور ایڈووکیٹ کا کام کرنے کا طریقہ
رانا سرور ایڈووکیٹ نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں، کس کے ساتھ کام کر رہے ہو؟ میرے بتانے پر انہوں نے مجھے کہاکہ آپ چاہیں تو میرے پاس آ جائیے میرا ہاتھ بٹائیں۔ اْن کا کام کرنے کا طریقہ کار بہت عمدہ تھا اور وہ یونیورسٹی لاء کالج میں اْستاد بھی رہ چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سردار سلیم حیدر خان نے پنجاب اسمبلی کا 33واں اجلاس 24 اکتوبر کو طلب کرلیا
کام کی روزمرہ کی روایات
میری سینئر رانا محمد سرور ایڈووکیٹ اگلے روز کے کیسوں کی تیاری روزانہ مغرب کے بعد 11 بجے رات تک کرتے تھے۔ وہ 2 بجے ہائی کورٹ سے فارغ ہونے کے بعد اپنی گاڑی اور ڈرائیور کے ساتھ اپنے گھر علامہ اقبال ٹاؤن تشریف لے جاتے تھے اور نماز مغرب کے بعد آفس آ کر اگلے دن کا کام شروع کرتے تھے جو رات 11 بجے تک جاری رہتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیب نے بشریٰ بی بی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا
کیس کی تیاری کا تجربہ
میں صبح 8 بجے اْن کے آفس اپنی گاڑی میں آتا تھا اور اْن کے ساتھ ہائی کورٹ چلا جاتا تھا۔ واپس آفس 2 بجے آتے تھے اور اگلے روز کی فائلیں نکلوا کر میں 2 گھنٹے تک کیسوں کی تیاری کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو نادہندگان کی باری آ گئی۔۔۔پنجاب حکومت نے اہم قدم اٹھا لیا
پیشہ ورانہ ترقی
اپنے سینئر رانا سرور کے ساتھ کیونکہ مجھے روزانہ ہائی کورٹ جانا ہوتا تھا اس لیے اگلے ایک سال میں میرے تمام جاننے والے وکیل مجھے ہائی کورٹ کا وکیل کہنے لگ گئے۔ رانا سرور ایڈووکیٹ کی محبت و شفقت کے باعث میرا شمار جلد ہی اچھے وکیلوں میں ہونے لگ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ایم پی اے ملک احمد سعید کے والد کے انتقال پر اظہار افسوس
سپریم کورٹ کا لائسنس
1991ء میں 2 سال وکالت کے مکمل ہونے پر مجھے ہائی کورٹس کی وکالت کا لائسنس مل گیا اور 13 سال ہائی کورٹس میں کام کرنے کے بعد 2004ء میں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کا لائسنس ملا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے سموگ پابندیوں میں مزید نرمی کردی
دلچسپ واقعہ
سپریم کورٹ کا لائسنس حاصل کرنے کے ضمن میں ایک دلچسپ صورتحال یہ پیدا ہوئی کہ ان دنوں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس افتخار محمد چودھری نے میرا انٹرویو لیتے وقت میرا سی وی دیکھنے کے بعد مجھ سے سوال کیا کہ فیملی پلاننگ کی ملازمت سے میں نے استعفیٰ دیا تھا یا کہ مجھے نکالا گیا تھا۔
اختتام
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








