مودی سرکار نے بھارتی اداروں کو ’’سیاسی ہتھیار ‘‘میں بدل دیا، عوام کے بجٹ کے غلط استعمال پر آوازیں اٹھنے لگیں
مودی سرکار کا اداروں کا سیاسی استعمال
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) مودی سرکار نے بھارتی اداروں کو "سیاسی ہتھیار" میں بدل دیا ہے، جس پر عوام کے بجٹ کے غلط استعمال پر آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کیخلاف 190ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر
سیاسی مقاصد کے لئے قومی ادارے
تفصیلات کے مطابق بھارت نے قومی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جس پر بی جے پی کی ہندو انتہا پسند حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ "جیو نیوز" کے مطابق بھارتی فوج نے اگست میں ہماچل پردیش کی وادی اسپیتی میں ڈرون مقابلے کا اعلان کیا ہے، جو 10 سے 24 اگست تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بغض عمران میں جعلی حکومت نفرتوں کو فروغ دے رہی ہے : بیرسٹر سیف
ڈرون مقابلہ اور چین کے ساتھ لائن آف کنٹرول
بھارتی میڈیا کے مطابق ہماچل اور اتراکھنڈ میں چین کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی نگرانی سینٹرل کمانڈ کے سپرد کر دی گئی ہے، اور فوج کے ساتھ ڈرون فیڈریشن آف انڈیا بھی شراکت دار ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے سابق وزیر داخلہ اور کانگریس کے بااثر سینئر رہنما شیو راج پٹیل چل بسے
مقابلے کے مقاصد
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈرون مقابلے کا مقصد "آپریشن سندور" کے بعد اونچے مقامات پر جنگی حالات میں ڈرونز کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔ مقابلے میں حصہ لینے والے ڈرون ساز ادارے کسی بھی چینی پرزے کا استعمال نہیں کر سکتے، اور ان اداروں کو 10700 فٹ کی بلندی پر قدرتی رکاوٹوں کے اوپر اپنے ڈرونز کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
انتقادات اور تشویش
بھارتی ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ڈرون مقابلوں کی تشہیر میں بھارتی فوج کو اشتہاری مہم کا حصہ بنا کر بی جے پی نے قومی اداروں کو سیاسی ہتھیار میں بدل دیا ہے۔ ملکی مفاد کے نام پر عوامی فلاح کا بجٹ جنگی سرمایہ کاری اور دفاعی تماشوں کی نذر کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے مودی حکومت خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ "آپریشن سندور" کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے فوج کو سیکیورٹی کے بجائے سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔








