کمبوڈیا کا ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرنے کا اعلان
کمبوڈیا کا ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا فیصلہ
پنوم پین (ڈیلی پاکستان آن لائن) کمبوڈیا نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرے گا۔ یہ اعلان جمعہ کے روز ملک کے نائب وزیر اعظم نے کیا۔ یہ اعلان جنوب مشرقی ایشیائی ملک کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے حالیہ سرحدی تنازع کو روکنے میں ٹرمپ کی براہِ راست مداخلت کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ تصادم کی بجائے سفارتکاری کا انتخاب کرے: ایرانی وزیر خارجہ کھل کر بول پڑے
نائب وزیر اعظم کی تصدیق
جب رائٹرز نے ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے نائب وزیر اعظم چنتھول سے اس تصدیق کے لیے رابطہ کیا کہ آیا کمبوڈیا واقعی ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرے گا، تو انہوں نے جواب دیا "ہاں۔"
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ کیس میں بشری بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع
امن کی کوششوں کا اعتراف
دارالحکومت پنوم پین میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے چنتھول نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے امن قائم کیا اور کہا کہ وہ نوبل انعام کے مستحق ہیں، جو کہ وہ اعلیٰ بین الاقوامی اعزاز ہے جو کسی فرد یا تنظیم کو قوموں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دینے کے لیے دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری خارجہ پالیسی نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا: رانا تنویر حسین
پاکستان اور اسرائیل کی جانب سے بھی نامزدی
جون میں پاکستان نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ بھارت کے ساتھ تنازع حل کرانے میں مدد پر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرے گا، جبکہ گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی کہا تھا کہ وہ ٹرمپ کو اس انعام کے لیے نامزد کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے بیسیوں ڈیم بنا کر اپنے دریاؤں کے پانی کو زراعت کو ترقی دینے کے لیے محفوظ کیا، جبکہ ہم نے گزشتہ 50 برسوں میں کوئی ایک ڈیم بھی نہیں بنایا۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تصادم کا خاتمہ
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے ٹرمپ کی ایک کال نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان ایک دہائی سے زائد عرصے کے شدید ترین تصادم کو ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کو توڑ دیا، جس کے بعد پیر کو ملائیشیا میں ایک جنگ بندی طے پائی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پہلی مرتبہ مفت میت منتقلی سروس کا آغاز
وائٹ ہاؤس کا ردعمل
جنگ بندی کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ میں کہا کہ "یہ ٹرمپ کی وجہ سے ممکن ہوا۔" انہوں نے مزید کہا: "انہیں نوبل امن انعام دیا جائے!"
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات بے نتیجہ ختم
شدید تصادم کے نتائج
اس شدید تصادم میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہوئے، جو پانچ دن تک جاری رہا اور دونوں جانب سے 3 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سے غیر مستحق سرکاری ملازمین کو 23 ارب 68 کروڑ روپے دینے کا انکشاف
امریکی ٹیرف میں کمی کا شکریہ
چنتھول، جو کمبوڈیا کے اعلیٰ تجارتی مذاکرات کار بھی ہیں، نے کہا: "ہم ان کی امن کے لیے عظیم کوششوں کو تسلیم کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک امریکی درآمدی ٹیرف کی شرح 19 فیصد تک کم کرنے پر بھی ٹرمپ کا شکر گزار ہے۔
ٹیرف کی شدت میں کمی
انہوں نے رائٹرز کو جمعہ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ واشنگٹن نے ابتدائی طور پر 49 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی، جسے بعد میں 36 فیصد کر دیا گیا، اور اگر یہ نافذ ہو جاتا تو کمبوڈیا کی اہم ملبوسات اور جوتے سازی کی صنعت تباہ ہو جاتی۔








