ڈی این اے ٹیسٹ نے 40 سالہ شادی کا پول کھول دیا ، بچے کسی اور کے نکلے
شادی کے چالیس سال بعد حیرت انگیز انکشاف
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بحرین کے ایک شخص کو اپنی شادی کے چالیس سال بعد علم ہوا کہ جن پانچ بچوں کو وہ اب تک پالتا رہا، وہ ان کا حقیقی باپ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری کالج کی عمارت پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تصویر والا جھنڈا لگانے پر کالج پرنسپل کو شوکاز نوٹس جاری
عدالت کا شاندار فیصلہ
تفصیلات کے مطابق بحرین کی ایک ہائی شریعت عدالت نے حیران کن فیصلہ سناتے ہوئے ایک شخص کو پانچ بچوں کے قانونی باپ کی حیثیت سے محروم کردیا ہے، جب ڈی این اے ٹیسٹ سے انکشاف ہوا کہ وہ ان بچوں کا حیاتیاتی (بیالوجیکل) باپ ہی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی اسپانسرڈ دہشتگردی بلوچستان کی ترقی کے لیے سنگین ترین خطرہ ہے، آرمی چیف
سرکاری دستاویزات میں تبدیلی
اس فیصلے کے بعد اب اس شخص کا نام تمام سرکاری دستاویزات سے حذف کر دیا جائے گا جہاں اسے بچوں کا باپ ظاہر کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی کا یہی رویہ رہا تو پھر گورنر راج کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں: عظمیٰ بخاری
مدعی کا انکشاف
یہ کیس اس وقت منظر عام پر آیا جب مدعی، جو تقریباً چالیس سال تک اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی رشتے میں رہا اور انہی بچوں کی پرورش کرتا رہا، ایک طبی مسئلے کے باعث یہ انکشاف ہوا کہ وہ قدرتی طور پر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں۔ شک گہرا ہونے پر ڈی این اے ٹیسٹ کروایا گیا، اور فرانزک رپورٹ نے واضح طور پر تصدیق کردی کہ بچوں اور شخص کے درمیان کوئی حیاتیاتی تعلق موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اور اب پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بھرتی پر ملازمین کا جنسی جرائم کا ریکارڈ دیکھا جائے گا
عدالت کا قانونی نقطہ نظر
مدعی کے وکیل ابتسام الصباغ کے مطابق یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سچائی کی بنیاد پر ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ جب سائنسی ثبوت کسی بھی تعلق کو ناممکن قرار دے دیں تو اسلامی فقہ کے تحت پدری مفروضہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے ون ڈے فارمیٹ میں کپتان کی تبدیلی کے معاملے پر اجلاس بلانے کے لیے چیئر مین پی سی بی کو خط لکھ دیا۔
فقہ کی بنیاد پر فیصلہ
عدالت نے جعفری فقہ کے اصولوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا، جس کے مطابق نکاح کی موجودگی، اقرار یا گواہی کی بنیاد پر پدری نسبت تسلیم کی جاسکتی ہے، لیکن یہ اصول بنیادی اسلامی احکام یا ناقابل تردید سائنسی حقائق سے متصادم نہیں ہونے چاہئیں۔
نئے احکامات
عدالت نے تمام متعلقہ سرکاری اداروں کو حکم دیا ہے کہ بچوں کے ریکارڈ سے اس شخص کا نام حذف کیا جائے اور قانونی دستاویزات کو نئی حقیقت کے مطابق درست کیا جائے۔








