شہبازشریف نام ہی نہیں، کام میں بھی شریف ہیں، پنجاب کی ٹاپ انتظامیہ نے بھی بے اعتنائی برتی: سہیل وڑائچ
حکومتی پروٹوکول میں تبدیلی
لاہور (ویب ڈیسک) حکمران طبقہ عمومی طورپر پروٹوکول انجوائے کرتا ہے لیکن اب کچھ لوگوں کے لیے اس پروٹوکول میں کچھ تبدیلی ہوئی تو سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہانی اپنے کالم میں لکھ دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور کینیڈا کے درمیان معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
وزیراعظم شہباز شریف کی کارکردگی
روزنامہ جنگ میں چھپنے والے اپنے کالم میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ "وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، صرف نام کے ہی شریف نہیں بلکہ کام میں بھی شریف ہیں۔ ریاست کے نظام میں وہ واحد شخصیت ہیں جو Chief Executive ہونے کے باوجود ہائبرڈ طرز حکومت کو پیشانی پر بل ڈالے بغیر مسکراتے ہوئے چلاتے چلے جا رہے ہیں۔ انہیں آج سے نہیں چار دہائیوں سے یقین کامل ہے کہ محنت اور خلوص سے پاکستان کی تقدیر کو بدلا اور اُجالا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارشیں، سیلاب زدگان کیلئے 6000 ٹینٹ روانہ
وزیر ریلوے کا دورہ اور پروٹوکول کی کمی
چند روز پہلے وزیراعظم پاکستان نے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی دعوت پر لاہور سے کراچی کیلئے بزنس ایکسپریس ٹرین کا افتتاح کیا تو ان کی روایتی چمک غائب تھی شاید اس کی وجہ تھکن تھی یا پھر کام کا دباؤ۔ وزیراعظم واقعی شریف ہیں کہ پورے ملک کے Chief Executive اور وزیراعظم ہونے کے باوجود ان کے ساتھ نہ وزیراعلیٰ پنجاب موجود تھیں نہ Chief Secretary اور نہ ہی IG پولیس۔ حالانکہ پروٹوکول کا تقاضا ہے کہ وزیراعظم لاہور آئیں تو صوبے کی ٹاپ انتظامیہ ان کے ہم رکاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی ایئرلائن نے اسلام آباد اور پشاور کے لیے پروازیں شروع کردیں
سندھ اور بلوچستان کی مثالیں
نوازشریف سندھ کے دورے پر گئے تھے تو آصف زرداری نے بلاول بھٹو کو ان کی ہم رکابی اور ہر جگہ جذبہ خیرسگالی ظاہر کرنے کا پیغام دیا تھا۔ بظاہر، شہباز شریف کی مرضی کی ٹیم کو لاہور سے زیادہ اسلام آباد میں چمکنا چاہئے تھا۔ پنجاب کی کابینہ میں سیاسی عناصر کا غلبہ ہوتا تھا جبکہ وفاقی کابینہ میں تو سیاسی عناصر آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دوسرا بحری جہاز بھی ڈبو دیا، عملے کے 4 ارکان ہلاک
متوقع تبدیلیوں کی عدم موجودگی
شریف وزیراعظم کہہ سکتے ہیں کہ جو بدنام مسئلے ان پر تھوپے جا رہے ہیں ان کا سرے سے ان سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وزیراعظم اور ان کی آزمودہ ٹیم سے جن حیرت ناک تبدیلیوں کی توقع تھی وہ رونما نہیں ہو رہیں بلکہ ان کے رونما ہونے کے آثار بھی نہیں ہیں۔
آخری خیال
اگر شریف وزیراعظم لاہور کی اندھیری گلیوں، تپتے بازاروں تک کو سر کر سکتے ہیں تو وہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے کوفے کے آثار ختم کرکے اسے واقعی اسلام آباد کیوں نہیں بنا سکتے؟








