لفظ مار دیتے ہیں۔۔۔
خلاصہ اور تحریر
تحریر: خالد غورغشتی
یہ بھی پڑھیں: چین کس طرح ’فوجی سفارت کاری‘ کے ذریعے خطے میں بڑھتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کر رہا ہے؟
الفاظ کی طاقت
جی ہاں، آپ نے بالکل صحیح سمجھا؛ لفظ مار دیتے ہیں۔ انسان کو اکثر وہی لفظ زندہ درگور کر دیتے ہیں جو اسے معاشرے سے بطور خطاب ملتے ہیں۔ جس کے ساتھ جو لقب لگ جائے، وہ ساری عمر اس لقب کی لاج رکھنے میں گزار دیتا ہے، چاہے وہ لقب حقیقتاً اس کی شناخت ہو یا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب کی شاہ مردان میں سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر حملے کی شدید مذمت
عزت اور خود انحصاری
اگر ہمارے سامنے ہمیشہ یہ قول زندہ رکھا جاتا کہ ’’قوم کا سردار دراصل قوم کا خادم ہوتا ہے‘‘، تو شاید ہم اپنے القابات پر کبھی نہ اِتراتے۔ اگر کوئی ڈاکٹر بن جائے تو وہ ساری عمر صرف ڈاکٹری ہی کو اپنا مشن سمجھے گا، جیسے کسی اور کام سے وابستگی اس کی توہین ہو۔ انجینئر، وکیل، پروفیسر، عالم اور استاد سبھی اپنے اپنے دائرہ کار میں محدود ہو کر دوسرے کاموں کو کمتر یا غیر مناسب سمجھنے لگے ہیں۔ نتیجتاً معاشرہ نہ ماہرین سے مالامال ہوا؛ اور نہ ہی سچے خادموں سے، بلکہ ہر شعبے میں ’’جگاڑیوں‘‘ کی فصل لہلہ اٹھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علامتیں اور شناختیں بچپن سے ہی آپ کو لاحق ہو جاتی ہیں، آپ کبھی بھی دور نہیں کر سکتے، انہیں محض معمولاتِ زندگی کی حیثیت سے قبول کر لیا جاتا ہے.
پرانے دور کی مثالیں
ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ پہلے زمانے کے امام مسجد نہ صرف امامت کرتے بلکہ ساتھ کھیتی باڑی یا مزدوری بھی کرتے تھے۔ اس خود داری کی بہ دولت وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچے رہتے اور عزت سے زندگی گزارتے۔ آج کے دور میں، جیسے جیسے القابات بڑھے ہیں، خود انحصاری گھٹتی چلی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچے کو مار کر گھر میں دفنانے والے والدین کے ظلم کی ناقابل یقین داستان
عزت کا صحیح مفہوم
یہ عجب زمانہ ہے۔ ایک طرف نوجوان تعلیم مکمل کر کے صرف سرکاری یا سفید پوش نوکری کا انتظار کرتا ہے، دوسری طرف چھوٹے موٹے کام کو ’’ہتک عزت‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ مگر سوچنے کی بات ہے کہ اگر واقعی یہ کام عزت کے خلاف ہیں تو پھر ہم انھی سبزی فروشوں، خوانچہ والوں، صفائی کرنے والوں سے روز مرہ کی زندگی کیوں جڑی رکھتے ہیں؟ بات دراصل ہمارے ذہنی زوال کی ہے، نہ کہ پیشوں کی۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان اعلیٰ عدلیہ میں ججز تعیناتی کیس؛ وفاق کو مجوزہ آرڈر 2019 پسند نہیں تو دوسرا بنا لے لیکن کچھ تو کرے، جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس
معاشرتی کردار
ڈاکٹر اور انجینئر سمجھتے ہیں کہ معاشرہ انہیں معزز سمجھتا ہے، حالاں کہ معزز وہ ہے جو معاشرے کے کام آئے، خواہ اس کا پیشہ کچھ بھی ہو۔ نبی کریمﷺ جن کے لیے ساری کائنات تخلیق کی گئی، وہ اپنے کپڑوں پر پیوند لگاتے، خود پانی بھر کر لاتے، دوسروں کے گھروں میں مدد کو پہنچتے، بھوکے کو کھلاتے اور ہاتھ سے مزدوری کو باعثِ فخر سمجھتے۔ مگر ہم صرف ایک لقب ملتے ہی ہر کام دوسروں سے کروانے لگتے ہیں، یہاں تک کہ ذاتی کاموں کے لیے بھی نوکر درکار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹن بیبر کا اعتراف: منشیات کے استعمال سے حد سے باہر نکل جانے کا تجربہ
تعلیمی نظام کا اثر
یہ المیہ محض انفرادی نہیں، اجتماعی ہے۔ ہمارے تعلیمی نظام سے لے کر خاندانی تربیت تک، ہر جگہ ’’القاب پر فخر‘‘ سکھایا گیا ہے، ’’خدمت اور محنت‘‘ نہیں۔ ہمیں یہ سکھایا گیا کہ ڈاکٹر یا وکیل بننے کا مطلب ہے کہ اب جھاڑو پونچھا، دیہاڑی، ریڑھی یا کوئی سادہ سا ہنر ہمارے قابل نہیں۔ حالاں کہ عزت اس پیشے میں نہیں، بلکہ اس نیت اور محنت میں ہے جس سے وہ پیشہ اپنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: صحافیوں کا علی امین گنڈا پور کی اسمبلی تقریر پر شدید ردعمل
نتیجہ اور مطالبہ
یاد رکھیے، راحتیں مشکلات میں بدلتے دیر نہیں لگاتی۔ جو قومیں کام کو عزت نہیں دیتیں، وہ آخرکار دوسروں کی غلام بن جاتی ہیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے سے نہ عزت آتی ہے، نہ رزق۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے نوجوانوں کو محنت، ہنر، اور خود داری کا سبق دیں نہ کہ صرف اسناد اور القابات کا غرور۔
خود احتسابی کا مطالبہ
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہو گا کہ ہم اپنے نام کے ساتھ جڑے الفاظ سے اپنی پہچان بنا رہے ہیں یا انھی لفظوں کے نیچے خود کو دفن کر رہے ہیں؟
نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








